ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پچھلے 24 گھنٹوں میں انہوں نے چار امریکی میزائل شکن دفاعی ریڈار کو تباہ کر دیا ہے، جس سے خطے میں عسکری توازن پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملے خطے میں بڑھتی ہوئی تناؤ اور ایران کے عسکری اقدامات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اسی دوران متحدہ عرب امارات میں الفجیرہ آئل انڈسٹری زون میں ایک آئل ریفائنری سے دھواں اٹھنے لگا، جس کے بارے میں حکام نے کہا کہ یہ آگ ڈرون کے ملبے گرنے کے نتیجے میں لگی، تاہم انڈسٹری زون کی سرگرمیاں متاثر نہیں ہوئیں۔

کویت میں بھی سبیہ پاور اور واٹر پلانٹ میں آگ لگی، جس پر فوری طور پر قابو پا لیا گیا۔ ان واقعات سے خطے میں توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کے لیے حفاظتی اقدامات بڑھا دیے گئے ہیں۔

ادھر لبنان میں حزب اللہ لبنان نے اسرائیلی ہیلی کاپٹر کو مار گرنے کا دعویٰ کیا، جس سے لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ نے سعودی عرب میں اپنے سفارتی عملے کو واپس بلانے کا حکم دیا ہے، جسے خطے میں سلامتی کے خدشات اور ایران کی حالیہ عسکری کارروائیوں سے جوڑا جا رہا ہے۔ امریکی حکام نے کہا ہے کہ سفارتی اہلکاروں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے یہ اقدام ضروری تھا۔

 ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے بعد کی گئی یہ کارروائیاں خطے میں عسکری توازن، سلامتی اور عالمی توانائی کی مارکیٹ پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں، خاص طور پر امریکہ، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے تعلقات پر۔

مزید پڑھیں: آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نئے رہبرِ اعلیٰ مقرر، ایران کو  نیا سپریم لیڈر  مل گیا

خطے میں جاری کشیدگی کے پیش نظر عالمی برادری نے دونوں جانب سے تحمل اور بات چیت کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے، جبکہ عسکری ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید کارروائیاں اور ردعمل متوقع ہیں، جس سے سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔