روسی وزارت داخلہ کے مطابق اپنے پیغام میں صدر پیوٹن نے کہا کہ ایسے وقت میں جب ایران جارحیت کا سامنا کر رہا ہے، اس اعلیٰ منصب پر آپ کی ذمہ داریاں یقیناً ہمت اور عزم کا تقاضا کریں گی۔
ولادیمیر پیوٹن نے مزید کہاکہ مجھے یقین ہے کہ آپ وقار کے ساتھ اپنے والد کے کام کو جاری رکھیں گے اور سخت آزمائشوں کے دوران ایرانی قوم کو متحد رکھیں گے۔
روسی صدر نے اپنے بیان میں ایران کے لیے روس کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ روس ایران کا قابلِ اعتماد شراکت دار رہے گا۔
✉️ President Vladimir Putin sent a congratulatory message to the newly elected Supreme Leader of Iran – Ayatollah Seyyed Mojtaba Hosseini Khamenei.
— MFA Russia 🇷🇺 (@mfa_russia) March 9, 2026
💬 I am confident that you will unite the Iranian people in the face of the severe trials ahead.https://t.co/JOYAAWN2LE pic.twitter.com/jYd80CMb0m
ان کا کہنا تھاکہ میں ایران کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت اور اپنے ایرانی دوستوں کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتا ہوں۔ روس اسلامی جمہوریہ ایران کا قابلِ اعتماد شراکت دار رہا ہے اور رہے گا۔
دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کی تقرری ایران کا آئینی فیصلہ ہے اور چین کسی بھی بہانے سے دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔
خیال رہے کہ 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای ایران کی تاریخ کے تیسرے سپریم لیڈر بنے ہیں۔ ان سے قبل ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای تقریباً 37 سال تک اس منصب پر فائز رہے۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں تہران میں ان کے گھر کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوگئے تھے۔






