صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے ایران کی بحریہ، فضائیہ، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو نشانہ بنایا اور تباہ کیا ہے،امریکہ کے پاس غیر معمولی فوجی طاقت اور لامحدود اسلحہ موجود ہے جو کسی بھی وقت استعمال کیا جا سکتا ہے
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی افواج نے ایران کے اہم تیل کے مرکز خارگ جزیرہ کے قریب فوجی اہداف پر حملے کیے ہیں۔ خارگ جزیرہ خلیج فارس میں ایران کی تیل کی برآمدات کا سب سے اہم مرکز ہے اور اس پر ہونے والے حملوں نے خطے میں کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگرچہ امریکہ چاہے تو اس جزیرے کی تیل کی تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر سکتا ہے، لیکن فی الحال ایسا نہیں کیا گیا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں مداخلت کی تو امریکہ کا فیصلہ تبدیل ہو سکتا ہے اور مزید جارحانہ کارروائی کی جائے گی۔
اس سے قبل ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کب ختم ہوگی، اس کا فیصلہ وہ خود کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب وہ محسوس کریں گے کہ جنگ ختم ہونی چاہیے، تب ہی یہ ختم ہوگی، اور اس کے لیے امریکی فوج اور انتظامیہ تیار ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکی افواج نے ایران کے خرج جزیرے میں فوجی اہداف پر بھرپور حملے کیے ہیں، صدر ٹرمپ
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی اس بیان بازی کا مقصد ایران پر دباؤ ڈالنا اور خلیج فارس میں امریکہ کی حکمرانی اور تیل کی ترسیل کو یقینی بنانا ہے، اس قسم کے بیانات خطے میں کشیدگی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں اور عالمی توانائی منڈی پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کی فوجی اور اقتصادی سرگرمیاں عالمی میڈیا کی کوریج کا اہم حصہ بنی ہوئی ہیں۔
خطے میں امن و استحکام کے لیے عالمی طاقتیں اس صورتحال پر غور و فکر کر رہی ہیں تاکہ کشیدگی مزید بڑھنے سے روکی جا سکے اور توانائی کی عالمی سپلائی متاثر نہ ہو۔







