انڈیا سنسر بورڈ سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن (سی بی ایف سی) نے فلم کو سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا، جس کے باعث اس کی باقاعدہ نمائش ممکن نہ ہو سکی۔

فلم کے ڈسٹری بیوٹر منوج نندوانا نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ان کی کمپنی جے ویراترا انٹرٹینمنٹ اس فلم کو 6 مارچ کو ریلیز کرنا چاہتی تھی تاکہ ناظرین آسکر تقریب سے قبل اسے دیکھ سکیں، تاہم فروری میں درخواست جمع کرانے کے باوجود منظوری نہیں دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ سنسر بورڈ کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ فلم ایک "انتہائی حساس" موضوع پر مبنی ہے، اس لیے اس کی نمائش سے بعض سفارتی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

ڈسٹری بیوٹر کے مطابق بورڈ کے ایک رکن نے خدشہ ظاہر کیا کہ فلم کی ریلیز سے بھارت اور اسرائیل کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں، جس کے باعث حکام نے محتاط رویہ اختیار کیا۔

یہ فلم غزہ سے تعلق رکھنے والی 6 سالہ بچی ہند رجب کی دلخراش سچی کہانی پر مبنی ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ وہ 2024 میں غزہ میں اسرائیلی حملوں کے دوران اپنے خاندان کے ہمراہ سفر کر رہی تھی۔ فلم کے مطابق ان کی گاڑی پر فائرنگ کے بعد بچی نے مدد کے لیے فلسطینی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی سے رابطہ کیا، تاہم بعد میں وہ اور امدادی کارکن بھی جانبر نہ ہو سکے۔

مزید پڑھیں: نیٹو اتحاد نے آبنائے ہرمز کو کھولنے میں امریکا کا ساتھ نہیں دیا، ڈونلڈ ٹرمپ

فلم سازوں کا دعویٰ ہے کہ یہ کہانی نہ صرف ایک انسانی المیے کی عکاسی کرتی ہے بلکہ جنگی حالات میں معصوم جانوں کے ضیاع کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

ڈسٹری بیوٹر کا کہنا ہے کہ یہ فلم ان ممالک میں بھی نمائش کے لیے پیش کی جا چکی ہے جہاں اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات موجود ہیں، اور وہاں کسی قسم کا سفارتی تنازع سامنے نہیں آیا، اس لیے بھارت میں اس پر پابندی سمجھ سے بالاتر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اور اسرائیل کے تعلقات مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں اور ایک فلم سے ان پر کوئی خاص اثر نہیں پڑنا چاہیے۔

واضح رہے کہ نریندر مودی اور بنیامین نیتن یاہو کے ادوار میں دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ مودی 2017 میں اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیر اعظم تھے جبکہ نیتن یاہو نے 2018 میں بھارت کا دورہ کیا تھا، جس سے دوطرفہ تعاون میں اضافہ ہوا۔

دوسری جانب فلم کو عالمی سطح پر خاصی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ اسے مختلف بین الاقوامی فلمی میلوں میں سراہا گیا، خصوصاً وینس بینالے میں اسے غیر معمولی داد ملی اور سلور لائن ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق فلم کی بھارت میں نمائش روکنے کے فیصلے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ آیا فلمی مواد کو سفارتی اور سیاسی بنیادوں پر محدود کرنا مناسب ہے یا نہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارتی سنسر بورڈ نے کسی فلم کو حساس موضوعات کے باعث روکا ہو، اس سے قبل بھی مذہبی اور سماجی نوعیت کے معاملات پر مبنی فلموں کو محدود یا تاخیر کا سامنا کرنا پڑ چکا ہے۔

واضع رہے کہ اس فیصلے کے بعد بھارت میں آزادیٔ اظہار، تخلیقی آزادی اور ریاستی پالیسی کے درمیان توازن پر بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔