عالمی خبررساں اداروں كے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی عسکری صلاحیت  مکمل طور پر تباہ  ہو چکی ہے اور اب اس کے پاس واپسی کا کوئی موقع نہیں، ایرانی قیادت کو جلد سنجیدہ ہونا ہوگا، ورنہ نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ تہران کسی بھی قسم کے مذاکرات میں شامل نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دوست ممالک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ مذاکرات نہیں کہلا سکتا اور ایران کی موجودہ پالیسی مزاحمت جاری رکھنا اور اپنے دفاع کو یقینی بنانا ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطے پاکستان کے ذریعے ہو رہے ہیں، جب کہ ترکی اور مصر بھی ثالثی کی کوششوں میں شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد ممکنہ مذاکرات کے لیے ایک اہم مقام کے طور پر زیر غور ہے۔ امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے پندرہ نکاتی منصوبے میں ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے، میزائل صلاحیت محدود کرنے اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول سے متعلق سخت مطالبات شامل ہیں۔

اس کے برعکس ایران نے بھی اپنے مطالبات سخت کر دیے ہیں، جن میں مستقبل میں حملوں کے خلاف ضمانت، نقصانات کا ازالہ، پابندیوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز پر باضابطہ کنٹرول شامل ہے۔

مزید یہ کہ ایران نے کسی بھی جنگ بندی معاہدے میں لبنان کو شامل کرنے کی شرط بھی عائد کی ہے۔

28 فروری سے جاری امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے بعد خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایران کی جانب سے اسرائیل، امریکی اڈوں اور خلیجی ممالک پر حملے کیے جا رہے ہیں، جب کہ اسرائیل بھی ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔

تازہ حملوں میں ایران نے اسرائیل پر متعدد میزائل داغے، جس سے تل ابیب سمیت کئی علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے اور کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے۔

ادھر ایران کے شہر بندر عباس اور شیراز کے نواحی علاقوں میں حملوں کے نتیجے میں دو نوجوان بھائی جاں بحق ہو گئے۔

اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر کو بھی شہید کر دیا ہے اور مزید اہداف کو نشانہ بنانے کا منصوبہ موجود ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش، جہاں سے دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، عالمی معیشت کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ شروع ہو گیا ہے، جب کہ دنیا بھر میں ایندھن کی قلت بڑھ رہی ہے۔

کاروباری ادارے، ایئرلائنز، سپر مارکیٹس اور دیگر شعبے بڑھتی لاگت، سپلائی چین میں رکاوٹ اور کمزور طلب جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ کئی حکومتیں کورونا وبا کے دوران استعمال ہونے والے ہنگامی اقدامات پر دوبارہ غور کر رہی ہیں۔

عالمی ادارہ خوراک کے مطابق اگر جنگ جون تک جاری رہی تو کروڑوں افراد کو شدید بھوک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جب کہ کسانوں کو ڈیزل کی قلت کا سامنا ہے۔

جمعرات کو بھی خلیجی خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں کا تبادلہ جاری رہا۔ ابو ظہبی میں ایک بیلسٹک میزائل کو تباہ کرنے کے بعد اس کا ملبہ گرنے سے دو افراد جاں بحق اور تین زخمی ہو گئے۔

ماہرین کے مطابق دونوں فریقین کے سخت مؤقف کے باعث فوری امن معاہدہ مشکل دکھائی دیتا ہے، جب کہ جنگ کے اثرات خطے سے نکل کر عالمی سطح پر گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔