سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ٹروتھ سوشل  پر جاری بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے نئے صدر نے حال ہی میں جنگ بندی کی خواہش ظاہر کی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ایران کی نئی قیادت پہلے کے مقابلے میں کم شدت پسند اور زیادہ  سمجھدار  ہے، تاہم امریکا اس درخواست پر فوری فیصلہ نہیں کرے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ جنگ بندی پر غور اس وقت کیا جائے گا جب آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی اور محفوظ ہو جائے گی۔

امریکی صدر نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر شرائط پوری نہ ہوئیں تو امریکا ایران کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: معاہدہ ہو نہ ہو، ایران سے ’بہت جلد‘ نکل جائیں گے، آج رات اہم خطاب کروں گا: ڈونلڈ ٹرمپ

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں امریکا ایران کو  مکمل طور پر تباہ  کرنے یا اسے  پتھر کے زمانے میں واپس بھیجنے  کی صلاحیت رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جب کہ جنگ بندی سے متعلق ایسے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔