صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جانب سے دی گئی تجویز اہم پیش رفت ضرور ہے، لیکن یہ امریکا کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں، اگر ایران مطلوبہ اقدامات کر لے تو جنگ  بہت جلد ختم  ہو سکتی ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات  نیک نیتی  سے جاری ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کے پاس متعدد متبادل آپشنز موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم ابھی پیچھے ہٹ سکتے ہیں، لیکن میں اس معاملے کو مکمل کرنا چاہتا ہوں اور ایک بار پھر زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ایک دعویٰ جسے ایران بارہا مسترد کر چکا ہے۔

امریکی صدر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ان کی انتظامیہ نے ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی مدد کے لیے اسلحہ بھیجا تھا، تاہم انہوں نے وضاحت نہیں کی کہ یہ اسلحہ کن عناصر کے پاس گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر موقع ملا تو وہ ایران کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہیں گے، جس سے امریکا کو مالی فائدہ ہو سکتا ہے۔ امریکا اس وقت ایران کو  تباہ  کر رہا ہے اور عندیہ دیا کہ ایرانی انفراسٹرکچر، بشمول پلوں اور بجلی گھروں، کو مکمل طور پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

جنگ کی مخالفت کرنے والے امریکیوں کو ٹرمپ نے  نادان  قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ صرف ایک مقصد کے لیے ہے اور وہ ہے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا۔

دوسری جانب ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کے تحت جنگی جرم تصور کیا جا سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔