یہ قرارداد بحرین نے خلیجی تعاون کونسل اور اردن کے اشتراک سے تیار کی ہے، جس میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے دفاعی اقدامات میں ہم آہنگی بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔ مسودے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر تجارتی جہازوں اور شہری تنصیبات پر حملے بند کرے، جن میں تیل، گیس اور پانی کی تنصیبات بھی شامل ہیں۔
آبنائے ہرمز کو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نہایت حساس اور اہم گزرگاہ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی فراہمی ہوتی ہے۔ 28 فروری کو ایران کے اہداف پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے ردعمل میں ایران نے اسرائیل اور بعض خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا۔
اطلاعات کے مطابق ایران نے کچھ جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی، تاہم تجارتی سرگرمیوں میں خلل کے باعث عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے بھی ایرانی بحری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے ایک کثیر القومی بحری اتحاد کی تجویز پیش کی ہے، تاہم فرانس، جرمنی، جاپان اور برطانیہ سمیت کئی ممالک نے اس معاملے پر محتاط موقف اختیار کیا ہے۔ برطانیہ نے اس سلسلے میں 40 ممالک کے ساتھ مشاورت بھی کی ہے۔
ابتدائی مسودے میں طاقت کے استعمال سے متعلق ایک شق شامل تھی، تاہم چین، روس اور چند یورپی ممالک کے تحفظات کے بعد اسے نکال دیا گیا۔ موجودہ قرارداد بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے دفاعی اقدامات تک محدود ہے اور اس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے باقاعدہ رپورٹنگ کا مطالبہ بھی شامل کیا گیا ہے۔







