وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب صدر ٹرمپ سے اسلام آباد میں مذاکرات کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مزید مذاکرات سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ایران بہت زیادہ بیتابی سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے، ہمارے درمیان بہت سی باتوں پر اتفاق ہو چکا تھا لیکن وہ اس پر راضی نہیں ہوئے۔

تاہم صدر ٹرمپ کو یقین ہے کہ ایرانی قیادت بالآخر اس معاہدے پر رضامند ہو جائے گی۔ ان کے مطابق اگر وہ اس پر راضی نہیں ہوں گے تو کوئی ڈیل نہیں ہوگی۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایرانی رہنما معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اور آج صبح ہی انہیں اس حوالے سے متعلقہ افراد کی کال موصول ہوئی ہے۔

ایران کی بحری ناکہ بندی سے متعلق سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران حقیقت میں دنیا کو بلیک میل کر رہا ہے اور امریکہ ایسا ہرگز نہیں ہونے دے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز کو براہ راست استعمال نہیں کرتا کیونکہ اس کے پاس اپنے تیل اور گیس کے وافر ذخائر موجود ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بحری جہاز امریکی تیل لوڈ کرنے کے لیے امریکا پہنچ رہے ہیں۔

اس سے قبل ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ روز 34 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو اس آبی گزرگاہ کی بندش کے آغاز سے اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔