ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور آئندہ مذاکرات کا محور مکمل جنگ بندی ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یہ سفارتی رابطے گزشتہ اتوار سے جاری ہیں، جس میں پاکستان کی جانب سے بھیجے گئے پیغامات موصول ہو رہے ہیں اور ایران کا مؤقف اس حوالے سے واضح اور دوٹوک ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ قوی امکان ہے کہ مذاکرات کے تسلسل میں ایران آج ایک پاکستانی وفد کی میزبانی کرے گا، جس سے اس سفارتی عمل میں تیزی آنے کی توقع ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے اسلامک ریپبلک نیوز ایجنسی کے مطابق ان مذاکرات میں جنگ بندی کے ساتھ ساتھ ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے ازالے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔

اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اور صیہونی حکومتیں ہر ایرانی کو اپنا دشمن سمجھتی ہیں، تاہم ایران اپنے قومی مفادات اور حقوق کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب کا 3 ارب ڈالر کے اضافی ڈپازٹ کا وعدہ، وزیراعظم شہباز شریف آج جدہ روانہ ہوں گے

خیال رہے کہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر سفارتی کوششیں تیز ہو چکی ہیں، اور پاکستان ایک اہم ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔