عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق معمول کی پریس بریفنگ میں قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ امریکاایران مذاکرات کے دائرہ کار کو وسیع کرنے یا کسی نئے ثالث کو شامل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے مزید کہا کہ قطر اس معاملے پر علاقائی اور عالمی سطح پر اپنے تمام شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور اس تنازع کے پرامن و سفارتی حل کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں تعطل پیدا ہوا تو خطہ کسی منجمد تنازع کی صورت اختیار کر سکتا ہے، جو وقتاً فوقتاً دوبارہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔

ترجمان نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ آبنائے ہرمز پر کسی بھی قسم کی دھمکی یا بندش ناقابلِ قبول ہوگی۔

ماجد الانصاری نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کو کسی قسم کی سودے بازی کے لیے استعمال کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کا براہِ راست تعلق عالمی توانائی کے تحفظ سے ہے، اور دنیا کسی بھی غیر ذمہ دارانہ اقدام کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

لبنان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ قطر اپنی پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے لبنان اور اس کی مسلح افواج کی حمایت جاری رکھے گا اور اس ضمن میں پانچ رکنی کمیٹی کے فریم ورک کے تحت بین الاقوامی شراکت داروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ ہم آہنگی بھی جاری ہے۔