سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے اور چاہتا ہے کہ امریکا جلد از جلد آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے اقدامات کرےاور ایران نے عندیہ دیا ہے کہ موجودہ حالات مزید بگڑنے کی صورت میں خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے ایک عبوری تجویز بھی پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پہلے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولا جائے اور اس کے بعد جوہری پروگرام سمیت دیگر متنازع امور پر بات چیت کی جائے۔ تاہم صدر ٹرمپ اس تجویز کو قبول کرنے کے لیے آمادہ نظر نہیں آتے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق اگرچہ بظاہر امریکا اور ایران کے درمیان فاصلے بڑھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، لیکن پس پردہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور سفارتی کوششیں جاری ہیں،مختلف چینلز کے ذریعے بات چیت کا عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے تاکہ کسی ممکنہ تصادم سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ ایران نے اپنی نئی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچائی ہیں۔ ان تجاویز میں ابتدائی طور پر جنگ بندی اور بعد ازاں مستقل امن کے لیے ضمانتوں کی بات شامل ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان کا کردار بہترین، کسی اور ثالث کی ضرورت نہیں، قطر
ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کا معاملہ امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر اقتصادی دباؤ کم کیا جائے تو وہ دیگر معاملات، بشمول جوہری پروگرام، پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
ایران نے یہ بھی زور دیا ہے کہ اسے پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کا حق تسلیم کیا جائے، جس کے بغیر کسی بھی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ موجودہ صورتحال نہایت حساس ہے اور اگر دونوں ممالک نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو خطہ ایک بڑے بحران کی طرف جا سکتا ہے، تاہم جاری سفارتی کوششیں کسی ممکنہ پیش رفت کی امید بھی پیدا کر رہی ہیں۔







