وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں منعقدہ شاندار تقریب میں برطانوی بادشاہ کے استقبال کے لیے 21 توپوں کی سلامی دی گئی اور دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اپنی مرحوم والدہ کا ذکر کیا، جو اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھتی تھیں اور برطانوی شاہی خاندان سے گہری دلچسپی رکھتی تھیں۔

صدر ٹرمپ نے مزاق کے انداز میں کہا کہ ان کی والدہ کو خاص طور پر نوجوان چارلس بے حد پسند تھے۔ ان کے بقول، “مجھے آج بھی یاد ہے کہ وہ اکثر کہا کرتی تھیں، ‘چارلس کو دیکھو، وہ کتنا دلکش نوجوان ہے۔’ میری والدہ کو ان پر کرش تھا، کیا آپ یقین کر سکتے ہیں؟”

ٹرمپ کے اس جملے پر تقریب میں قہقہوں کی گونج سنائی دی، جبکہ کنگ چارلس سوم نے بھی مسکراتے ہوئے اس پر ردعمل دیا اور ہاتھ کے اشارے سے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ یہ لمحہ تقریب کا خاصا یادگار بن گیا اور حاضرین نے اسے خوب سراہا۔

امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ سمیت اعلیٰ حکومتی شخصیات، سفارتکاروں اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات اور باہمی تعاون کو بھی اجاگر کیا گیا۔

مزید پڑھیں: کیئر اسٹارمر کی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر دن گنے جا چکے ہیں، برطانوی اخبار کا دعویٰ

اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے امریکا اور برطانیہ کے دیرینہ تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ آزادی کے حصول کے بعد سے امریکی قوم کے لیے برطانوی عوام سے زیادہ قریبی دوست کوئی نہیں رہا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ اقدار، تاریخ اور جمہوری روایات کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

یہ شاہی دورہ ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب امریکا اپنی آزادی کے اعلان کی 250ویں سالگرہ منا رہا ہے، جسے دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ 

واضح رہے کہ اس طرح کے سفارتی اور علامتی لمحات نہ صرف تعلقات میں گرمجوشی پیدا کرتے ہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی مثبت پیغام دیتے ہیں۔