صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ٹیلی فونک رابطوں کے ذریعے بات چیت جاری ہے اور ایران کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے، تاہم اس بات کا یقین نہیں کہ یہ مذاکرات کسی نتیجے تک پہنچ سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی قیادت میں تضادات پائے جاتے ہیں، کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی قیادت کنفیوژن اور تقسیم کا شکار ہے۔ ایرانیوں کو خود بھی واضح نہیں کہ ان کی قیادت کس کے پاس ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے معاملے پر امریکا کے پاس دو ہی راستے ہیں، یا تو معاہدہ کیا جائے یا پھر سخت کارروائی کی جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرے کیونکہ اس سے عالمی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں امریکا نے کامیابی حاصل کی ہے اور ایران کی بحریہ و فضائیہ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کی قیادت کا احترام کرتے ہیں، خصوصاً وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عزت کرتے ہیں۔