برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ ایران کے ساتھ حالیہ مسلح تنازع محدود نوعیت کا تھا اور اس کا مقصد مخصوص اہداف حاصل کرنا تھا، جو اب پورے کر لیے گئے ہیں اسی لیے امریکا اپنے اسٹریٹجک مقاصد حاصل کرنے کے بعد مزید کارروائی روک دی ہیں ۔
امریکی صدر نے خط میں مزید بتایا کہ اپریل کے اوائل کے بعد ایران کے ساتھ کسی بڑی فوجی جھڑپ کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں واضح کمی آئی ہے، امریکا خطے میں امن و استحکام کو ترجیح دیتا ہے اور غیر ضروری تصادم سے گریز کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
یہ خط ایسے وقت میں کانگریس کو بھیجا گیا جب امریکی قوانین کے تحت صدر کو بیرونِ ملک فوجی کارروائیوں کے حوالے سے مقررہ مدت کے اندر قانون ساز ادارے کو آگاہ کرنا لازمی ہوتا ہے، یہ اقدام نہ صرف آئینی تقاضے کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا بلکہ عالمی برادری کو ایک واضح پیغام دینے کی بھی کوشش ہے کہ امریکا اس مرحلے پر کشیدگی میں مزید اضافہ نہیں چاہتا۔
دفاعی اور سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا کی جانب سے کشیدگی کے خاتمے کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی بدستور برقرار ہے۔ خطے میں نگرانی اور سیکیورٹی کے اقدامات جاری ہیں، جس کے باعث صورتحال مکمل طور پر معمول پر آنے کے حوالے سے کچھ شکوک و شبہات اب بھی موجود ہیں۔
US President Donald Trump told lawmakers on Friday that the campaign against Iran has "terminated," as the 60-day clock for Congressional approval ran out. pic.twitter.com/OFwkun30Jp
— CGTN (@CGTNOfficial) May 2, 2026
واضح رہے کہ یہ پیشرفت خطے میں ممکنہ بڑے تصادم کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، تاہم اس کے دیرپا اثرات کا انحصار آنے والے دنوں میں ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی روابط اور پالیسیوں پر ہوگا۔ ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آیا یہ کشیدگی واقعی ختم ہو چکی ہے یا محض وقتی وقفہ ہے۔
بین الاقوامی سطح پر اس اعلان کو محتاط امید کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے، جہاں کئی ممالک خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں کو مزید تیز کرنے پر زور دے رہے ہیں۔







