رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران پر مبینہ کارروائیاں سعودی فضائیہ نے انجام دیں، اور یہ پہلا موقع تصور کیا جا رہا ہے کہ سعودی عرب نے براہِ راست ایرانی سرزمین کو نشانہ بنایا۔ اگرچہ ریاض نے ان حملوں کی کھل کر تصدیق نہیں کی، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال اُس وقت مزید سنگین ہوگئی جب 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے شروع کیے، جس کے بعد پورا خطہ شدید تناؤ کی لپیٹ میں آگیا۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیجی ممالک میں فوجی اڈوں، ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
ایران کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد سعودی قیادت نے سخت ردعمل کا فیصلہ کیا اور خفیہ فضائی کارروائیاں کی گئیں، سعودی عرب کی جانب سے مزید جوابی حملوں کے انتباہ اور پس پردہ سفارتی رابطوں کے نتیجے میں ایران نے سعودی عرب پر براہِ راست حملوں میں کمی کردی۔
دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک غیر اعلانیہ مفاہمت بھی طے پائی، جس کے بعد 7 اپریل کو جنگ بندی عمل میں آئی،اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ مشرقِ وسطیٰ کی طاقت کے توازن میں ایک بڑی تبدیلی سمجھی جائے گی۔
سعودی وزارتِ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے مبینہ حملوں پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا،انہوں نے خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کی حمایت کا اعادہ کیا۔ دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ نے بھی میڈیا رپورٹس پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تنازع صرف سعودی عرب اور ایران تک محدود نہیں رہا بلکہ متحدہ عرب امارات پر بھی ایرانی سرزمین کے اندر کارروائیوں کے الزامات لگائے گئے۔ اس دوران آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کو شدید متاثر کیا، جس سے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا ہوئی۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کے ایران پر خفیہ فضائی حملوں کا انکشاف
ادھر سفارتی ذرائع کے مطابق شدید کشیدگی کے باوجود ریاض اور تہران کے درمیان رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے، دونوں ممالک نے 2023 میں چین کی ثالثی کے بعد اپنے تعلقات بحال کیے تھے، جسے خطے میں ایک بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ سابق سعودی انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ سعودی قیادت نے دانشمندی اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مملکت کو “تباہی کی آگ” میں جھونکنے سے بچانے کی کوشش کی۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان نے بھی سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے لڑاکا طیارے تعینات کیے، جبکہ اسلام آباد نے تمام فریقین پر زور دیا کہ معاملات کو جنگ کے بجائے سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جائے۔







