چین کے دورے کے دوران اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری ایک  بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ شی جن پنگ نے نہایت محتاط اور سفارتی انداز میں امریکا کی گزشتہ صورتحال کا ذکر کیا، جس سے واضح تھا کہ ان کی تنقید بائیڈن انتظامیہ کے چار سالہ دور پر تھی۔

ٹرمپ نے کہا کہ سابق حکومت کے دوران امریکا کو متعدد داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا،  کھلی سرحدوں کی پالیسی، بڑھتے ہوئے جرائم، بلند ٹیکسز، کمزور معاشی فیصلوں اور ناقص تجارتی معاہدوں نے امریکا کی عالمی حیثیت کو نقصان پہنچایا۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ بائیڈن دور میں امریکا معاشی اور سیاسی طور پر کمزور دکھائی دے رہا تھا، جبکہ عالمی سطح پر بھی امریکی قیادت پر سوالات اٹھ رہے تھے، اس عرصے میں غیر قانونی امیگریشن میں اضافہ ہوا، داخلی سلامتی کے مسائل بڑھے اور عالمی منڈیوں میں امریکا کا اعتماد متاثر ہوا۔

“صرف 16 ماہ میں امریکا بدل گیا”

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حکومت کے ابتدائی 16 ماہ کو “تاریخی کامیابی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکی معیشت نے تیزی سے بحالی کا سفر شروع کیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی اسٹاک مارکیٹس نئی بلندیوں تک پہنچ چکی ہیں، بے روزگاری میں نمایاں کمی آئی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں ریکارڈ اضافہ دیکھا جا رہا ہے، دنیا بھر کی بڑی کمپنیاں دوبارہ امریکا میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں کیونکہ اب عالمی سرمایہ کار امریکی معیشت پر اعتماد کر رہے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے صنعتوں کو فروغ ملا، کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوا اور امریکی شہریوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔

فوجی طاقت اور خارجہ پالیسی پر زور

امریکی صدر نے اپنے بیان میں ایران اور وینزویلا سے متعلق پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے عالمی سطح پر امریکی طاقت کو دوبارہ مستحکم کیا ہے۔

دعویٰ کیا کہ امریکی فوج اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور جدید ہو چکی ہے اور امریکا اپنے اتحادیوں کے دفاع اور عالمی مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

ٹرمپ کے مطابق ان کی انتظامیہ نے نہ صرف معیشت بلکہ قومی سلامتی کے شعبے میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جس کے باعث دنیا میں امریکا کا اثر و رسوخ دوبارہ بڑھ رہا ہے۔

مزید پڑھیں: چین نے آبنائے ہرمز کھولنے میں مدد کی پیشکش کی ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

شی جن پنگ نے مبارکباد دی، ٹرمپ کا دعویٰ

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے مختصر عرصے میں حاصل ہونے والی امریکی کامیابیوں پر انہیں مبارکباد بھی دی۔

ان کے مطابق شی جن پنگ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ موجودہ امریکی حکومت نے تیزی سے معاشی اور سیاسی استحکام حاصل کیا ہے، جس سے عالمی سطح پر امریکا کی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی ہے۔

امریکا اور چین تعلقات پر اہم اشارہ

اپنے پیغام کے اختتام پر ٹرمپ نے کہا کہ دو سال پہلے امریکا واقعی تنزلی کا شکار تھا اور اس نکتے پر وہ شی جن پنگ سے اتفاق کرتے ہیں، تاہم اب صورتحال مکمل طور پر بدل چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج امریکا دنیا کی سب سے طاقتور، بااثر اور مقبول قوم کے طور پر دوبارہ ابھر رہا ہے، جبکہ مستقبل میں امریکا اور چین کے تعلقات مزید بہتر اور مستحکم ہوں گے۔

واضح رہے کہ  ٹرمپ کا یہ بیان نہ صرف داخلی سیاست بلکہ امریکا اور چین کے درمیان جاری سفارتی تعلقات کے تناظر میں بھی اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ دونوں عالمی طاقتیں اس وقت تجارت، معیشت اور عالمی سلامتی کے معاملات پر مسلسل رابطے میں ہیں۔