غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حزب اللہ کی سرگرمیوں اور جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کے باعث فوج کو “فیصلہ کن کارروائی” کرنا پڑ سکتی ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری اپنے پیغام میں جنوبی لبنان کے ساحلی شہر صور کے قریب واقع پانچ دیہات کے نام بھی جاری کیے اور مقامی آبادی کو فوری انخلا کی ہدایت کی۔
بیان میں شہریوں سے کہا گیا کہ وہ اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے فوری طور پر گھروں کو خالی کریں اور ان علاقوں سے کم از کم ایک ہزار میٹر دور چلے جائیں۔
#عاجل ‼️انذار عاجل الى سكان لبنان المتواجدين في البلدات والقرى التالية: شبريحا, حمادية (صور)، زقوق المفدي, معشوق, الحوش
— افيخاي ادرعي (@AvichayAdraee) May 15, 2026
🔸في ضوء قيام حزب الله الارهابي بخرق اتفاق وقف اطلاق النار يضطر جيش الدفاع على العمل ضده بقوة. جيش الدفاع الإسرائيلي لا ينوي المساس بكم.
🔸حرصًا على سلامتكم،… pic.twitter.com/r8DeyVezsr
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند ماہ قبل امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 16 اپریل کو دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ اس سے سرحدی کشیدگی میں کمی آئے گی اور خطے میں امن قائم ہوگا۔
تاہم جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں، راکٹ حملوں اور فضائی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، جس کے باعث سرحدی علاقوں میں خوف و ہراس کی فضا برقرار ہے
اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے اور سرحدی علاقوں میں اپنی عسکری سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
فوجی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اپنی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اگر خطرات برقرار رہے تو بھرپور فوجی کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب حزب اللہ کی جانب سے فوری طور پر اسرائیلی الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں تنظیم اسرائیلی کارروائیوں کو اشتعال انگیزی قرار دیتی رہی ہے
مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی انتباہ کے بعد جنوبی لبنان کے متاثرہ علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور کئی خاندان محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی شروع کر چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکی حملوں نے ایران کے دفاعی نظام کو مفلوج کردیا، بڑے حملے کی صلاحیت بھی نہیں رہی: امریکی سینٹرل کمانڈ
علاقے میں پہلے ہی گزشتہ مہینوں کے دوران ہونے والی جھڑپوں کے باعث متعدد دیہات جزوی طور پر خالی ہو چکے ہیں، جبکہ مسلسل کشیدگی کے باعث معمولاتِ زندگی بھی شدید متاثر ہیں۔
یاد رہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پورے مشرق وسطیٰ کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ اگر سرحدی صورتحال مزید خراب ہوئی تو یہ تنازع لبنان، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے سنگین سکیورٹی خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی جانب سے بھی دونوں فریقین پر تحمل کا مظاہرہ کرنے اور جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کی اپیل کی جا رہی ہے تاکہ خطے میں بڑے پیمانے پر تصادم کو روکا جا سکے۔







