بنگلہ دیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق زیرِ غور معاہدوں میں ’’جنرل سیکیورٹی آف ملٹری انفارمیشن ایگریمنٹ‘‘ (GSOMIA) اور ’’اکوزیشن اینڈ کراس سروسنگ ایگریمنٹ‘‘ (ACSA) شامل ہیں۔ ان معاہدوں کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی رابطوں، حساس فوجی معلومات کے محفوظ تبادلے اور مشترکہ آپریشنل تعاون کو مزید مؤثر بنانا بتایا جا رہا ہے۔

 حالیہ ہفتوں میں ان معاہدوں پر بات چیت میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک کی دفاعی و سفارتی ٹیموں نے متعدد تکنیکی امور پر مشاورت بھی کی ہے، اگر یہ معاہدے حتمی شکل اختیار کر لیتے ہیں تو بنگلہ دیش اور امریکا کے عسکری تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتے ہیں۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مجوزہ معاہدوں کے تحت مشترکہ فوجی مشقوں، انسانی امداد اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی کارروائیوں، اقوام متحدہ امن مشنز اور دیگر دفاعی سرگرمیوں کے دوران لاجسٹک تعاون کو وسعت دی جائے گی۔ اس تعاون میں ایندھن کی فراہمی، طبی سہولتیں، مواصلاتی معاونت، فوجی سازوسامان کی مرمت، ٹرانسپورٹ سپورٹ اور بندرگاہوں و ہوائی اڈوں تک رسائی جیسی سہولتیں شامل ہو سکتی ہیں۔

واضح رہے  کہ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا بحرِ ہند و بحرالکاہل خطے میں اپنی موجودگی اور اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ خلیجِ بنگال میں واقع بنگلہ دیش اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن ڈھاکا کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانا چاہتا ہے۔

دوسری جانب بنگلہ دیش کے بعض دفاعی اور سیاسی حلقوں میں ان معاہدوں کے حوالے سے تحفظات بھی پائے جاتے ہیں۔ سابق سیکیورٹی حکام اور ناقدین کا مؤقف ہے کہ وسیع تر لاجسٹک تعاون مستقبل میں بنگلہ دیش میں امریکی عسکری اثر و رسوخ بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے، جسے ملک کے اندر ایک حساس معاملہ تصور کیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ ڈھاکا حکومت اس معاملے پر نہایت محتاط حکمتِ عملی اختیار کیے ہوئے ہے تاکہ امریکا کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کے باوجود چین، بھارت، روس اور دیگر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ اس کے روابط متاثر نہ ہوں۔ بنگلہ دیش طویل عرصے سے دفاعی سازوسامان کے لیے چین پر انحصار کرتا رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں اس نے ترکی سمیت مختلف ممالک کے ساتھ عسکری تعاون بڑھانے کی پالیسی اپنائی ہے۔

مزید پڑھیں : خلیجی اتحادی ممالک کی درخواست پر ایران پر فوجی حملے کو مؤخر کر دیا ہے، صدر ٹرمپ

 امریکا کے ساتھ دفاعی روابط میں اضافے سے بنگلہ دیش کو جدید فوجی ٹیکنالوجی، بحری نگرانی کے جدید نظام، تربیت اور دفاعی استعداد بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ آیا ڈھاکا اپنی تزویراتی خودمختاری اور متوازن خارجہ پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے عالمی طاقتوں کے درمیان توازن قائم رکھ پائے گا یا نہیں۔

یاد رہے کہ  بنگلہ دیش اور امریکا کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی تعاون آنے والے دنوں میں جنوبی ایشیا اور بحرِ ہند کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، جبکہ خطے کے دیگر ممالک اس پیشرفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔