بیان میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کسی حتمی معاہدے پر اس وقت تک دستخط نہیں کریں گے جب تک ایران ان شرائط کو قبول نہیں کرتا۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کے روز اس ممکنہ معاہدے پر کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا، البتہ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی اور صدر ٹرمپ کی ایک تصویر شیئر کی، جس میں دونوں جنگی طیاروں کے پس منظر میں ایک ساتھ کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ تصویر کے ساتھ تحریر تھ کہ ایران کے پاس کبھی بھی ایٹمی ہتھیار نہیں ہو گا۔
یہ خاموشی اس سخت مؤقف کے برعکس سمجھی جا رہی ہے جو اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ امریکی اسرائیلی کارروائیوں کے آغاز پر اختیار کیا تھا۔
اسرائیل کے سابق سفیر مائیکل ہرزوگ کے مطابق اسرائیلی حکومتی حلقوں میں اس مجوزہ معاہدے کے حوالے سے زیادہ جوش و خروش دکھائی نہیں دے رہا۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں سے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو نقصان پہنچا، لیکن اسرائیل میں عمومی تاثر یہ ہے کہ ممکنہ معاہدہ جنگی کامیابیوں کا مکمل سفارتی فائدہ حاصل نہیں کر پا رہا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر واضح پابندیوں کا ذکر موجود نہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کو کھولنا امریکی ترجیح بنتا دکھائی دے رہا ہے، جو اسرائیل کے جنگی اہداف میں شامل نہیں تھا۔
مزید پڑھیں: کسی معاہدے میں جلد بازی نہ کی جائے، ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی مذاکرات کاروں کو ہدایت
ریٹائرڈ اسرائیلی بریگیڈیئر جنرل اساف اوریون نے کہا کہ امریکا کشیدگی بڑھانے سے گریز کرنا چاہتا ہے، جس سے ایران پر دباؤ کم ہو سکتا ہے اور یہ صورتحال اسرائیل کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
اسرائیل کو یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ اگر معاہدہ طے پا گیا تو ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں، جیسے حزب اللہ اور حماس، کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں پر مزید پابندیاں لگ سکتی ہیں، جب کہ ایران کو اپنے علاقائی اثرورسوخ برقرار رکھنے کا موقع مل جائے گا۔







