ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ، مضبوط اور آزمودہ دوستی کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ چینی صدر شی جن  پنگ نے کہا کہ پاکستان اور چین نے ایک ناقابلِ شکست اور وقت کی کسوٹی پر پوری اترنے والی شراکت قائم کی ہے جو دونوں ممالک کے عوام کے لیے اعتماد اور تعاون کی بنیاد ہے۔

چینی صدر نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے تعمیری اور مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے ذمہ دارانہ مؤقف اپنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی امن کے لیے پاکستان کی کوششیں قابلِ تعریف ہیں اور چین ان اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

شی جن پنگ نے مزید کہا کہ چین اپنی ہمسایہ ممالک سے تعلقات کی پالیسی میں پاکستان کو خصوصی اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کو عالمی سطح پر تعاون کو مزید فروغ دینا چاہیے، چین اور پاکستان کو مشترکہ طور پر یکطرفہ اقدامات اور سرد جنگ جیسے طرزِ فکر کی مخالفت کرنی چاہیے تاکہ عالمی سطح پر توازن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

ملاقات میں سیکیورٹی تعاون، اقتصادی منصوبوں اور خطے میں امن کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر بھی بات چیت ہوئی۔ چینی صدر نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو اپنا پرانا اور قابلِ اعتماد دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور دوستی کا رشتہ وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: امن کی کوششوں کی حمایت پر چینی قیادت کا مشکور ہوں: وزیرِ اعظم شہباز شریف

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر چینی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا، چین اور پاکستان کی شراکت نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے اہم ہے۔

ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔