عالمی خبررساں اداروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات مسلسل جاری ہیں اور ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں کہ چند روز قبل دونوں ممالک نے ایک دوسرے سے بات کرنا بند کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ایران سے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت معاہدہ کر لیا جائے۔ آپ 47 سال سے یہی طرزِ عمل اختیار کیے ہوئے ہیں اور اسے مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

امریکی صدر نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کسی کو معلوم نہیں کہ موجودہ مذاکرات کس نتیجے پر پہنچیں گے، تاہم سفارتی رابطے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کانگریس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، حالانکہ چند ماہ قبل تک تہران ایسے معاملات پر گفتگو سے بھی انکار کر رہا تھا۔

روبیو نے واضح کیا کہ مذاکرات میں پیش رفت اس بات کی ضمانت نہیں کہ ایسا معاہدہ طے پا جائے جو امریکی عوام یا سینیٹ کے لیے قابل قبول ہو۔

ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے پر جوہری پروگرام کی تفصیلات پر کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔

امریکی حکام کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ علی خامنہ ای بھی کسی حد تک مذاکراتی عمل میں دلچسپی لے رہے ہیں، جسے واشنگٹن ایک اہم پیش رفت قرار دے رہا ہے۔

مذاکرات میں سب سے بڑے اختلافی نکات ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کی صورتحال ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تہران کو آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کو یقینی بنانا ہوگا، جب کہ ایران اپنے جوہری حقوق پر مؤقف برقرار رکھے ہوئے ہے۔

دریں اثنا، امریکی اور اسرائیلی قیادت کے درمیان بھی حالیہ دنوں میں اختلافات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو سے رابطہ کرکے لبنان میں کشیدگی بڑھانے والے اقدامات پر تحفظات کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: امریکا و ایران میں دوبارہ کشیدگی؛ پاسدارانِ انقلاب کا امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے خبردار کیا کہ بیروت پر مزید حملے خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بعد ازاں صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ان کی مختلف فریقوں سے بات چیت  انتہائی نتیجہ خیز  رہی ہے اور لبنان میں کشیدگی کم کرنے کے لیے بھی پیش رفت ہوئی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی شہروں پر حملے جاری رہے تو اسرائیل لبنان میں کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

خیال رہے کہ امریکا، ایران، اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری سفارتی سرگرمیاں مشرقِ وسطیٰ کی مستقبل کی صورتحال کے تعین میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، تاہم اب بھی متعدد حساس معاملات پر فریقین کے درمیان واضح اختلافات موجود ہیں۔