سی این این کی رپورٹ کے مطابق، اس معاملے سے آگاہ متعدد ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے آذربائیجان کے جنوبی علاقوں، خصوصاً ایران کی سرحد کے قریب واقع مقامات کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض کارروائیاں ایرانی شہر تبریز سے تقریباً 60 کلومیٹر فاصلے پر واقع علاقوں سے کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق ان علاقوں میں اسرائیل کے خصوصی کمانڈو یونٹس بھی تعینات تھے، جنہوں نے خفیہ معلومات جمع کرنے کے علاوہ ڈرون حملوں میں بھی حصہ لیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جنگ کے دوران ان مقامات سے شمالی ایران میں اہم اہداف کو نشانہ بنایا اور یہ علاقے اسرائیلی فوج کے لیے انتہائی مؤثر ثابت ہوئے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آذربائیجان میں قائم یہ تنصیبات اسرائیل کے ان خفیہ فوجی اڈوں کا حصہ تھیں جو عراق، متحدہ عرب امارات اور صومالی لینڈ سمیت مختلف ممالک میں موجود ہیں۔
#WIONFineprint | Israel deployed forces in Azerbaijan
— WION (@WIONews) June 5, 2026
Report: Azerbaijan used for military, intelligence op against Iran@Mohammed11Saleh gets you more pic.twitter.com/80WmrUfi5u
ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر ان فوجی دستوں کو ہنگامی حالات میں امدادی اور ریسکیو کارروائیوں کے لیے تعینات کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں ان کا دائرۂ کار بڑھا کر انہیں خفیہ معلومات اکٹھی کرنے کے مراکز میں تبدیل کر دیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان انتظامات کے باعث اسرائیلی فوج ایران کے جنوب، مغرب اور شمال میں مختلف مقامات تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہی، جس سے اس کی عسکری منصوبہ بندی مزید مؤثر ہوئی اور اسے ایران کے اندر اہم اہداف پر مسلسل حملے جاری رکھنے میں سہولت ملی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ آذربائیجان میں ہونے والے اس آپریشن میں اسرائیل کی اسپیشل آپریشن فورسز، ایلیٹ ہیلی بورن کمبیٹ اینڈ ریسکیو یونٹس اور موساد کے اہلکار بھی شامل تھے۔
تاہم امریکا میں آذربائیجان کے سفارت خانے کے ترجمان نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آذربائیجان کی سرزمین کسی تیسرے ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کیے جانے کے الزامات بے بنیاد ہیں۔
سی این این کے مطابق آذربائیجان میں موجود اسرائیلی تنصیبات اسرائیل کے لیے ایک اضافی عسکری سہولت بھی فراہم کر رہی تھیں، جہاں سے ہنگامی حالات میں گرائے گئے یا حادثات کا شکار ہونے والے پائلٹس کو ریسکیو کیا جا سکتا تھا، جبکہ ایران سے متعلق خفیہ معلومات اور نگرانی کا نظام بھی فعال تھا۔
واضح رہے کہ آذربائیجان اور اسرائیل کے درمیان تجارتی اور دفاعی شعبوں میں قریبی تعلقات موجود ہیں۔ آذربائیجان اسرائیل کو بڑی مقدار میں تیل برآمد کرتا ہے، جبکہ اسرائیل اسے جدید دفاعی سازوسامان فراہم کرتا ہے، جس کا استعمال 2016 اور 2020 میں آرمینیا کے خلاف نیگورنو-کاراباخ تنازع کے دوران بھی کیا گیا تھا۔
آذربائیجان 2016 میں اسرائیل سے فضائی دفاعی نظام ’’آئرن ڈوم‘‘ خریدنے والا پہلا ملک بھی تھا۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ صومالی لینڈ میں بھی اسرائیل کو اضافی عسکری سہولیات حاصل تھیں، جہاں اسرائیلی جنگی طیاروں کو ایران کی جانب طویل پروازوں کے دوران رکنے کی اجازت دی گئی تھی۔
یاد رہے کہ دسمبر 2025 میں اسرائیل نے صومالی لینڈ کو بطور آزاد ریاست تسلیم کیا تھا، جس پر پاکستان سمیت متعدد مسلم ممالک نے شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تھا۔
Israel secretly deployed special forces and Mossad personnel to southern Azerbaijan during the war with Iran, a few dozen soldiers, multiple sites, roughly 60 miles from Tabriz.
— Clash Report (@clashreport) June 5, 2026
Mission: monitor northern Iran, run drones, support rescue operations, and plant listening devices… pic.twitter.com/4130yHcCGe
رپورٹ کے مطابق صومالی لینڈ کے ساحلی شہر بیربیرا میں متحدہ عرب امارات کے وسیع تجارتی اور عسکری مفادات موجود ہیں۔
اسی طرح یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ عراق میں اسرائیل کے خفیہ فوجی اڈے موجود تھے، جنہوں نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیلی کارروائیوں میں معاونت فراہم کی اور ضرورت پڑنے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز کے لیے سہولت مہیا کی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق میں اسرائیل کے دو مبینہ خفیہ فوجی اڈوں کے بارے میں اس سے قبل وال اسٹریٹ جرنل اور نیویارک ٹائمز بھی رپورٹس شائع کر چکے ہیں۔
تاہم عراقی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مارچ کے اوائل تک ملک میں کوئی غیرقانونی فوجی اڈہ یا غیرملکی فورس موجود نہیں تھی۔
سی این این نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیل نے خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات میں فضائی دفاعی نظام ’’آئرن ڈوم‘‘ بھی منتقل کیا تھا اور وہاں فوجی اہلکار بھی تعینات کیے گئے تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنگ کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو، موساد کے سربراہ اور اسرائیلی فوج کے اعلیٰ حکام نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا، تاہم اماراتی حکام نے ان دوروں کی تردید کی تھی۔







