رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک کم از کم 7 ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ لبنان میں 3 ہزار 593، ایران میں 3 ہزار 468 جب کہ خلیجی ممالک میں 29 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

اس کے علاوہ ایرانی حملوں میں 26 اسرائیلی شہری اور 13 امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے۔

جنگ کے دوران اسرائیلی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے باعث لبنان میں 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی افواج جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں تک پیش قدمی کر چکی ہیں اور اطلاعات کے مطابق ملک کے تقریباً 20 فیصد حصے پر ان کا کنٹرول قائم ہے۔

دوسری جانب ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں جنگ کے ابتدائی دو ہفتوں کے دوران 30 لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ ایران کے اہم انفراسٹرکچر، عسکری تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنائے جانے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔

جنگ کا ایک بڑا اثر آبنائے ہرمز کی بندش کی صورت میں سامنے آیا، جہاں دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی تھی۔

آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں کی معطلی اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیوں کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید متاثر ہوئی۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً دوگنی ہو گئی۔ برینٹ کروڈ کی قیمت، جو جنگ سے قبل تقریباً 70 ڈالر فی بیرل تھی، 100 ڈالر سے تجاوز کر گئی اور بعض مواقع پر 120 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے دنیا بھر میں مہنگائی کو ہوا دی اور خوراک، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداوار کی لاگت میں نمایاں اضافہ کیا۔

رپورٹس کے مطابق فروری کے آخر سے اب تک کم از کم 146 ممالک میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ایشیائی ممالک، جو خلیجی تیل پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جب کہ افریقہ اور لاطینی امریکا میں بھی ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

عالمی اسٹاک مارکیٹیں بھی جنگ سے متاثر ہوئیں۔ امریکی، یورپی اور ایشیائی حصص بازاروں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جب کہ سرمایہ کار جنگ اور سفارتی پیش رفت سے متعلق خبروں پر مسلسل ردعمل دیتے رہے۔

سفارتی سطح پر متعدد مرتبہ جنگ بندی اور مذاکرات کی کوششیں کی گئیں۔ 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا، تاہم اس کے چند گھنٹوں بعد لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں نے کشیدگی دوبارہ بڑھا دی۔

11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے، لیکن ایرانی جوہری پروگرام کے معاملے پر دونوں فریق کسی اتفاق رائے تک نہ پہنچ سکے اور بات چیت ناکام ہو گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ فریقین جنگ کے خاتمے کی خواہش رکھتے ہیں، تاہم جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور اعتماد کے فقدان جیسے مسائل کسی مستقل معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت بھی جنگ کے دوران متاثر ہوئی ہے۔ تازہ سرویز کے مطابق ٹرمپ کی منظوری کی شرح 40 فیصد کے قریب رہ گئی ہے جب کہ امریکی عوام کی اکثریت ان کی کارکردگی سے عدم اطمینان کا اظہار کر رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ کے 100 دن مکمل ہونے کے باوجود نہ تو کوئی مستقل جنگ بندی ممکن ہو سکی ہے اور نہ ہی کوئی جامع سفارتی معاہدہ سامنے آیا ہے، جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ اور عالمی معیشت دونوں غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔