ایرانی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسماعیل قانی نے دعویٰ کیا کہ خطے میں جاری تنازعات کے دوران مزاحمتی گروہوں نے دباؤ کے باوجود اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں اور میدان میں اپنی موجودگی برقرار رکھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف ہونے والی کارروائیوں اور کشیدگی نے امریکا کی عالمی ساکھ کو متاثر کیا،  اسرائیل کو بھی خطے میں مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ اسماعیل قانی کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال نے خطے کی سیاسی اور عسکری حرکیات کو تبدیل کیا ہے۔

القدس فورس کے کمانڈر نے فلسطین اور لبنان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مختلف حملوں اور دباؤ کے باوجود مزاحمتی گروہوں نے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا، حزب اللہ نے طویل عرصے تک مزاحمت جاری رکھی اور اسے ختم کرنا ممکن نہیں۔

اسماعیل قانی نے آبنائے باب المندب کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بحری راستہ مزاحمتی قوتوں کے لیے ایک اہم صلاحیت کے طور پر سامنے آیا، جس نے خطے میں طاقت کے توازن پر اثرات مرتب کیے،  بحیرہ احمر میں موجود صورتحال نے عالمی طاقتوں کی حکمت عملیوں کو بھی متاثر کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض جدید امریکی جنگی جہاز بھی بحیرہ احمر کی صورتحال کے باعث محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئے، خطے میں عسکری اور سفارتی دونوں محاذوں پر صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قانی نے ایرانی مذاکراتی عمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم نے مخالف فریق اور ثالثوں کے ساتھ بات چیت مکمل اختیارات کے ساتھ کی۔ ان کے مطابق ایران نے سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ اپنے مفادات کے تحفظ کو بھی ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی حملے ایران کو کمزور نہیں کر سکے، مسعود پزشکیان

انہوں نے لبنان کے حوالے سے کہا کہ وہاں بھی سفارتکاری اور زمینی صورتحال نے مزاحمت کے مؤقف کو نمایاں کیا۔ اسماعیل قانی کے مطابق خطے کے مستقبل کا انحصار سیاسی فیصلوں، سفارتی کوششوں اور زمینی حقائق پر ہوگا۔

واضح رہے کہ آبنائے باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ خطے میں کشیدگی کے باعث اس بحری گزرگاہ کی سیکیورٹی اور عالمی تجارت پر ممکنہ اثرات عالمی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔