مظاہرین نے حکومت کی امیگریشن، تعلیم اور سیکیورٹی پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔ نیویارک کے ٹائمز اسکوائر، بوسٹن کامن، شکاگو کے گرانٹ پارک اور درجنوں دیگر شہروں میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کئی مقامات پر احتجاج ایک جشن کا منظر پیش کر رہا تھا، جہاں موسیقی کے بینڈز نے دھنیں بجائیں اور لوگوں نے امریکی آئین کے ابتدائی الفاظ ‘وی دی پیپل’ والے بینر پر دستخط کیے۔

احتجاجی مظاہرے امریکا سے باہر بھی دیکھنے میں آئے۔ لندن میں امریکی سفارتخانے کے سامنے اور اسپین کے شہروں میڈرڈ اور بارسلونا میں درجنوں افراد نے ریلیوں میں شرکت کی۔ یہ مظاہرے صدر ٹرمپ کے دوبارہ وائٹ ہاؤس میں آنے کے بعد عوامی سطح پر ابھرنے والی تیسری بڑی تحریک قرار دی جا رہی ہے۔ حکومت کے شٹ ڈاؤن نے عوامی ناراضی کو مزید بڑھا دیا ہے، جب کہ منتظمین نے خبردار کیا ہے کہ صدر کا جارحانہ طرزِ عمل امریکا میں آمرانہ طرزِ حکمرانی کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

ڈیموکریٹ رہنما چک شومر اور سینیٹر برنی سینڈرز بھی مظاہروں میں شریک ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی طاقت ہی آمریت کے خلاف سب سے مضبوط دفاع ہے۔ امریکی سول لبرٹیز یونین کے مطابق ہزاروں رضاکاروں کو احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور کسی ممکنہ تصادم سے بچنے کی تربیت دی گئی ہے۔

دوسری جانب ریپبلکن رہنماؤں نے مظاہرین کو ‘مارکسسٹ’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ احتجاجی ریلیاں حکومت کے شٹ ڈاؤن کو مزید طول دے رہی ہیں۔ اسپیکر مائیک جانسن نے انہیں ‘ہیٹ امریکا ریلیز’ کا نام دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ امریکی اقدار اور سرمایہ داری سے نفرت کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ اس دوران فلوریڈا میں موجود تھے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میں بادشاہ نہیں ہوں، وہ غلط کہتے ہیں۔ برنی سینڈرز نے سوشل میڈیا پر ردِعمل دیتے ہوئے ان مظاہروں کو ‘امریکا سے محبت کی ریلیاں’ قرار دیا۔