خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا جنگ بندی برقرار ہے تو انہوں نے جواب دیا، ’’ہاں، یہ اب بھی برقرار ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ بظاہر حماس کی اعلیٰ قیادت کسی ممکنہ خلاف ورزی میں شامل نہیں، بلکہ ’’کچھ اندرونی باغی عناصر‘‘ اس کے ذمے دار ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’’بہرحال، اس معاملے کو صحیح طریقے سے نمٹایا جائے گا، سختی سے لیکن منصفانہ طور پر۔‘‘

اسرائیلی حکام کے مطابق، اتوار کو حماس کے ٹھکانوں پر بمباری کے بعد غزہ میں جنگ بندی دوبارہ نافذ کر دی گئی۔ اسرائیل کا الزام ہے کہ حماس نے اس کی فوج پر حملہ کیا، جو نو دن قبل طے پانے والی جنگ بندی کے بعد سب سے شدید جھڑپ تھی۔

غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق اسرائیلی حملوں میں کم از کم 45 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ان ہلاکتوں کی اطلاعات کا جائزہ لے رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ ان کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی برقرار رہے گی۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ حماس کے ساتھ امن برقرار رہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، وہ کبھی کبھار قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کچھ فائرنگ کی ہے، لیکن ہمیں لگتا ہے کہ قیادت اس میں شامل نہیں۔‘‘

ٹرمپ کے بیان سے کچھ دیر قبل نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا تھا کہ جنگ بندی کے دوران ’’اتار چڑھاؤ‘‘ آتے رہیں گے۔ ان کے مطابق، ’’حماس کبھی کبھار اسرائیل پر حملہ کرے گی اور اسرائیل کو جواب دینا پڑے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’یہ امن کے قیام کے لیے ایک اہم موقع ہے، لیکن اس میں نشیب و فراز آئیں گے اور ہمیں صورتحال پر مسلسل نظر رکھنی ہوگی۔‘‘

یاد رہے کہ 10 اکتوبر کو نافذ ہونے والی جنگ بندی نے دو سال سے جاری تباہ کن لڑائی کو ختم کیا تھا، جس میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں دسیوں ہزار فلسطینی مارے گئے اور غزہ کا بڑا حصہ ملبے میں تبدیل ہو گیا۔

اس معاہدے میں قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے ساتھ ساتھ غزہ کے مستقبل کے لیے ایک جامع فریم ورک بھی شامل ہے، تاہم اس پر عملدرآمد میں کئی مشکلات درپیش ہیں۔ نائب صدر وینس نے خلیجی عرب ممالک پر زور دیا کہ وہ ایک ’’سکیورٹی ڈھانچہ‘‘ قائم کریں تاکہ حماس کو غیر مسلح کیا جا سکے، جو امن معاہدے کا ایک بنیادی جزو ہے۔