انڈین اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں دیوالی کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جہاں انہوں نے روایتی چراغ روشن کیے۔ اس تقریب میں امریکہ میں انڈین سفیر ونے کواترا، ایف بی آئی کے سربراہ کاش پٹیل، انٹیلی جنس چیف تلسی گیبرڈ اور انڈیا میں نئے امریکی سفیر سرجیو گور سمیت دیگر شخصیات شریک تھیں۔

تقریب کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا، "میں نے آج آپ کے وزیراعظم سے بات کی۔ ہماری بہت اچھی گفتگو ہوئی، ہم نے تجارت پر بات کی، کئی دیگر موضوعات پر بھی تبادلہ خیال ہوا، لیکن زیادہ تر بات تجارت کے بارے میں تھی۔ وہ اس میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "کچھ دیر پہلے ہماری گفتگو میں یہ بات بھی ہوئی کہ پاکستان کے ساتھ کوئی جنگ نہیں ہونی چاہیے۔ اب ہمارے پاکستان اور انڈیا کے درمیان کوئی جنگ نہیں ہے، جو ایک بہت اچھی بات ہے۔"

اسی موقع پر صدر ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ ان کی گفتگو میں روسی تیل کی خریداری کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ ان کے بقول وزیراعظم مودی نے انہیں یقین دلایا ہے کہ انڈیا روس سے تیل کی درآمدات میں کمی کرے گا۔

صدر ٹرمپ نے کہا، "نریندر مودی میرے عظیم دوست ہیں۔ ہم کچھ زبردست معاہدوں پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ انڈیا روس سے زیادہ تیل نہیں خریدے گا۔ وہ بھی چاہتے ہیں کہ روس اور یوکرین کی جنگ ختم ہو۔ دراصل، انڈیا نے روسی تیل کی درآمدات میں خاصی کمی کر دی ہے اور یہ سلسلہ مزید کم ہوتا جا رہا ہے۔"

تاہم انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے امریکی صدر کے ان بیانات سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ ہندوستان ٹائمز کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ انہیں ایسی کسی گفتگو کے بارے میں علم نہیں ہے۔

ترجمان نے کہا کہ روس سے توانائی کی خریداری کے معاملے پر انڈیا کا مؤقف واضح ہے کہ اگر روسی تیل اقتصادی طور پر فائدہ مند ثابت ہوتا ہے تو اس کی خریداری جاری رکھی جائے گی۔ ان کے مطابق، "غیر یقینی توانائی کے عالمی ماحول میں ہماری ترجیح انڈین صارفین کے مفادات کا تحفظ ہے۔"

امریکی صدر کے اس بیان میں انڈیا کی جانب سے کسی باضابطہ تصدیق نہ ہونے کے باعث بین الاقوامی سطح پر مختلف سوالات جنم لے رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب واشنگٹن روس-یوکرین جنگ کے دوران ماسکو سے تجارتی تعلقات محدود کرنے پر اتحادیوں پر دباؤ ڈال رہا ہے۔