ٹرمپ نے جاپان کے ساتھ گہرے تعلقات اور امریکی فوج کی طاقت پر زور دیتے ہوئے ایئرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس جارج واشنگٹن پر امریکی فوجی اہلکاروں سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم سیاسی طور پر درست نہیں رہیں گے۔ جب بات امریکا کے دفاع کی ہو، تو ہم اپنی قوم کا دفاع ہر ممکن طریقے سے کریں گے۔
امریکی صدر نے جاپان کی وزیرِ اعظم سانائے تاکائچی کی موجودگی میں دونوں ممالک کے تعلقات کو دنیا کے سب سے مضبوط اتحادوں میں سے ایک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور جاپان کے تعلق نے ایک خوفناک جنگ کی راکھ سے جنم لیا اور آج یہ دوستی امن اور استحکام کی بنیاد بن چکا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ انہوں نے جاپان کی سیلف ڈیفنس فورسز کے ایف-35 طیاروں کے لیے پہلا بیچ میزائلوں کا منظور کر لیا ہے جو اس ہفتے پہنچ جائیں گے۔
امریکی صدر نے مذاق میں کہا کہ وزیرِ اعظم سخت مذاکرات کار ہیں، مگر میں خوش ہوں کہ جاپانی افواج کے لیے میزائل وقت سے پہلے پہنچ رہے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنی تقریر میں بتایا کہ جاپانی کمپنی ٹوئیوٹا امریکا میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہاکہ وزیرِ اعظم نے بتایا کہ ٹوئیوٹا امریکا بھر میں نئی آٹو پلانٹس لگا رہی ہے۔ تو میں کہوں گا، جا کر ایک ٹوئیوٹا خریدیں!
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب دنیا کا سب سے زیادہ احترام یافتہ ملک ہے اور ملک کا حوصلہ اور جذبہ عروج پر ہے۔ ہم ایک ایسے ملک سے نکلے ہیں جسے کوئی عزت نہیں دیتا تھا، لیکن اب لوگ فوج، پولیس اور فائر ڈیپارٹمنٹ میں شامل ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
امریکی صدر نے فوجی طاقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کوئی فوج امریکی فوج جیسی نہیں۔ اگر کوئی ملک مقابلہ کرنے کی کوشش کرے تو امریکی ملاح اسے تباہ کر دیں گے۔ سب نے کہا تھا کہ مجھے نوبل امن انعام ملنا چاہیے، لیکن شاید اس بیان کے بعد وہ موقع ختم ہو گیا۔
دوسری جانب تاکائچی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اب ہم ایک غیر معمولی خطرناک سلامتی کے ماحول کا سامنا کر رہے ہیں۔ امن صرف الفاظ سے نہیں، بلکہ پختہ عزم اور عمل سے ممکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جاپان اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بنیادی طور پر مضبوط کرے گا اور خطے کے امن و استحکام کے لیے مزید فعال کردار ادا کرے گا۔
واضح رہے کہ تقریر کے اختتام پر مشہور گانا ‘YMCA’ بجایا گیا، جس پر ٹرمپ نے فوجیوں کے ساتھ رقص بھی کیا۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ ہم اپنے جاپانی اتحادیوں کے ساتھ مضبوط کھڑے ہیں، فخر سے کھڑے ہیں۔ ہم لڑیں گے، جیتیں گے اور امریکا کا وقار بلند رکھیں گے۔ تقریر کے بعد ٹرمپ میرین ون ہیلی کاپٹر کے ذریعے واپس ٹوکیو روانہ ہوگئے۔







