میڈیا رپورٹس کے مطابق  غزہ شہر کے جنوبی علاقے میں واقع ایک محلے پر اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں دو افرادشہید اور چار دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔

ایک فضائی حملہ یلو لائن کے اندر صبرا کے علاقے میں ایک گھر پر کیا گیا، جہاں سے اسرائیلی افواج جنگ بندی معاہدے کے بعد پہلے ہی پیچھے ہٹ چکی تھیں۔

ایک اور میزائل حملے میں غزہ شہر کے مغرب میں واقع شطی پناہ گزین کیمپ کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ توپ خانے کی گولہ باری سے وسطی غزہ کے مشرقی علاقے دیرالبلح میں بھی تباہی ہوئی۔

اطلاعات کے مطابق ابتدا میں رفح شہر اور بعد میں خان یونس سے فائرنگ اور دھماکوں کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے متعدد مقامات پر حملے کیے ہیں۔ ایک میزائل الشفا ہسپتال کے پیچھے ایک اہم عمارت کے قریب گرا، جو پہلے تزئین و آرائش کے بعد دوبارہ استعمال میں لائی گئی تھی۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق حملے سے ہسپتال کے اندر مریضوں اور طبی عملے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق،پچھلے 30 منٹوں سے غزہ کے آسمان پر ہوا میں بڑی سرگرمی ہوئی ہے ۔

یہ حملہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے اس سے قبل پٹی پر حملہ کرنے کے حکم کے بعد کیا گیا ہے۔حملے اس وقت شروع ہوئے جب اسرائیلی فوج نے چند گھنٹے قبل غزہ پر طاقتور جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔

یہ اعلان نیتن یاہو کے دفتر سے ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کی جانب سے حوالے کیے گئے ایک تابوت میں کسی یرغمالی کی لاش موجود نہیں تھی۔

فرانزک ٹیسٹ کے مطابق تابوت میں موجود لاش اوفر زرفتی کی تھی، جن کی باقیات 2023 کے اواخر میں اسرائیلی فوج نے برآمد کی تھیں۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ لاش غزہ میں موجود 13 یرغمالیوں میں سے کسی کی نہیں تھی۔

اسرائیل نے حماس پر جنگ بندی معاہدے کی واضح خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس انسانی بنیادوں پر طے پائے گئے معاہدے کو توڑ رہی ہے۔

دوسری جانب، حماس نے اسرائیل کے الزامات کو جھوٹا اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تل ابیب غزہ میں نئی جارحیت کے لیے بہانہ تراش رہا ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل خود لاشوں کی تلاش اور حوالگی کے عمل میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔تنظیم نے ثالث ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کو سیاسی اور فوجی اشتعال انگیزی سے باز رکھیں اور انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کریں۔

دوسری جانب ایک امریکی اہلکار نے قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات اور اسرائیلی دھمکیوں کے باوجود غزہ میں سیز فائر بدستور برقرار ہے۔

اہلکار کے مطابق، اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم امریکی انتظامیہ کا خیال ہے کہ یہ منصوبہ اب بھی قابلِ عمل ہے اور اس پر پیش رفت جاری ہے۔

ماضی میں حماس نے کہا تھا کہ وہ امریکہ، مصر، قطر اور ترکی کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے پر پوری طرح عمل پیرا ہے، تاہم دو سالہ جنگ کے بعد لاشوں کی تلاش اور شناخت کے عمل میں وقت درکار ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان اس وقت امریکی حمایت یافتہ جنگ بندی نافذ ہے، لیکن دونوں فریق ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

معاہدے کی شرائط کے مطابق، حماس نے تقریباً دو ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہائی دینے کے بدلے میں تمام زندہ یرغمالیوں کو آزاد کیا، جب کہ اسرائیل نے اپنی فوجیں جزوی طور پر واپس بلائیں اور عسکری کارروائیاں روک دیں۔

حماس نے تمام ہلاک شدہ یرغمالیوں کی باقیات حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن اس کا کہنا ہے کہ دو سال کی جنگ سے تباہ حال علاقے میں لاشوں کی تلاش اور بازیابی میں وقت لگے گا۔

اسرائیل کا مؤقف ہے کہ حماس کے پاس اب بھی اکثر مغویوں کی باقیات تک رسائی موجود ہے۔