ڈاکٹر راحت حسین کمال کے آدمی ہیں ،یہ میرے بزرگ بھی ہیں اور استاد بھی ،یار باش آدمی ہیں، ان کی محفل میں وقت جیسے تھم سا جاتا ہے، آپ گھنٹوں ان سے بات کریں یہ آپ کے ذہن میں الجھی گھتیوں کو اپنے علم اور زندگی کے تجربات کی بنیاد پر سلجھاتے جائیں گے۔ یہ چلتی پھرتی یونیورسٹی ہیں۔ ڈاکٹر راحت ڈاؤ میڈیکل کالج سے گریجویٹ ہیں، معروف نیورولوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر واسع شاکر، ڈاکٹر محسن انصاری اور ڈاکٹر معراج الہدی جیسے معتبر نام ان کے کلاس فیلو رہے ہیں۔ ایک ہی کلاس میں کئی روشن دماغ موجود ہوں اور ان کی صحبت انسان کو میسر آجائے تو یہ بھی اللہ کی ایک خاص رحمت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر راحت حسین بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں، آپ ان سے کوئی سوال کریں یہ آپ کو مطمئن کیے بغیر جانے نہیں دیں گے، یہ سائیکولوجسٹ بھی ہیں، آپ کبھی پریشان ہوں یا مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں بھٹک رہے ہوں تو آپ ڈاکٹر راحت سے ملاقات کرلیں کیونکہ یہ امید کا دیا جلانے کا فن جانتے ہیں۔ میں گارنٹی دیتا ہوں آپکا آدھا مسئلہ ان سےگفتگو کرکے حل ہوجائے گا، یہ دل و دماغ میں سرائیت کرتی ہوئی ناامید ی اور مایوسی کو امیدکا ایزی لوڈ فراہم کردیں گے۔

میں یہ سب باتیں اس لیے لکھ رہا ہوں کیونکہ ڈاکٹر راحت کی اپنی زندگی امید ،حوصلے اور زندگی کو گزارنے سے نہیں بلکہ جینے سے عبارت ہے۔ ان کی کہانی نہایت دلچسپ ہے۔ یہ ایم ایم بی ایس کے فائنل ائیر میں تھے۔ ان کو دیکھنے میں مشکل کا سامنا ہونے لگا، ان کو پیپر پر دائرے نظر آنے لگے ،یہ ان کی بینائی متاثر ہونے کی ابتداء تھی، ایک روز انہوں نے یہ مسئلہ اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کیا وہ انہیں کلاس کے بعد ڈاکٹر کے پاس لے گئے، ڈاکٹر نے ان کی آنکھوں کا تفصیلی معائنہ کیا اور اس کے بعد ان کو وہ خبر سنائی جو 27 سالہ متحرک، محنتی اور آنکھوں میں مستقبل کے خواب سجائے راحت حسین پر قیامت بن کر ٹوٹی، ڈاکٹر نے ان کو بتایا کہ آپ کی نظر آہستہ آہستہ مزید متاثر ہوجائے گی اور آئندہ چند سالوں میں آپ بینائی سے مکمل محروم ہوجائیں گے، یہ بات سن کر ڈاکٹر راحت وہی بے ہوش ہوگئے، یہ غم سے چور تھے، دل ٹوٹ چکا تھااوران کواپنے خواب ریزہ ریزہ نظر آنے لگے، دوست انہیں اٹھا کر کر گھر لے آئے، گھر والے بھی پریشان تھے، مگر ان کو حوصلہ دیتے رہے، دوست بھی ان کی ہمت بناتے رہے، مگر ظاہر ہے دکھ واقعی بہت گہرا تھا، پروفیشنل لائف کی ابتداء تھی اوربینائی متاثر ہونے کا غم ڈاکٹر راحت کو کھائے جارہا تھا ، یہ کئی دن مایوسی اور تنہائی کا شکار رہے۔

مگر پھر انہوں نے خود سے چند سوال کیے، کیامیں عمر بھر اس معذوری پر روتا رہوں گا؟ اور لوگ مجھ پر بس ترس کھاتے رہیں گے ؟ کیوں نا میں اپنی اس معذوری کو طاقت میں بدل دوں؟ اور کچھ ایسا کروں کہ میری یہ معذوری میرے کام کے آگے بہت چھوٹی رہ جائے، انہیں اس بات پر مکمل یقین تھاکہ جس رب نے انہیں بینائی دی اور واپس لی ہے وہ یقناً انہیں بہت بہتراس کا بدلہ عطا کردے گا۔ یہ اس یقین کے ساتھ زندگی جینے کے لیے دوبارہ کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے ہاؤس جاب مکمل کی، میڈیکل اور مینجمنٹ کے مختلف کورسز مکمل کیے اور ایک دن بھی اپنی اس معذوری کو سیکھنےکے مرحلے میں رکاوٹ بننے نہیں دیا۔ یہ بس ہمت کے ساتھ آگے بڑھتے چلے گئے۔ اس سفر میں ان کی شریک حیات نے بھی ان کا مکمل ساتھ دیا، کئی کورسز میں وہ ان کے لیے رائٹر کی ذمہ داری سر انجام دینے لگی، ڈاکٹر راحت بولتے جاتے اور وہ امتحان میں لکھتی جاتیں، اس طرح ان کو بھی سیکھنےکا ایک منفرد موقع میسر آگیا۔اسی محنت کے سبب ڈاکٹر راحت کو ایک ایسے منفرد کورس میں بھی پڑھانے کا موقع میسر آیا جس میں صرف نابینا افراد شریک تھے۔ یہ کورس کینیا میں منعقد ہوا تھا اور یہ سارے پروفیشنل لوگ تھے۔ ڈاکٹر راحت ایشیا سے واحد انسٹرکٹر تھے جنہوں نے یہاں اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔

اسی دوران ڈاکٹر راحت نے سائیکولوجی میں ماسٹرز بھی مکمل کرلیا، یہ پڑھتے اورسیکھتے چلے گئے۔ یہ آج بھی دنیا بھر آن لائن کونسلنگ سیشن کرتے ہیں۔ لوگوں کے دکھ درد سن کر ان کو مایوسی کے اندھیرے سے نکالتے ہیں، ان کی زندگی کو مقصد کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔

ڈاکٹر راحت حسین کراچی میں عمیر ثناء فاؤنڈیشن کے سی ای او ہیں۔ یہ ادارہ گذشتہ دو دہائیوں سے تھیلے سیمیا کےمرض میں مبتلا بچوں کی خدمت کر رہا ہے۔ ڈاکٹر راحت آج بھی مختلف یونیورسٹیز اور کارپوریٹ اداروں میں رابطہ کرکے وہاں بلڈ ڈونیشن کیمپ کا انعقاد کرتے ہیں۔ کراچی کی تمام سرکاری اور نجی یونیورسٹیز کی مینجمنٹ انہیں نام سے جانتی ہے۔ یہ بے لوث ہوکر خدمت کرنے کے عادی ہیں۔ یہ روز صبح دس بجے اپنے دفتر خود زینہ چڑھ کر پہنچ جاتے ہیں۔روزانہ دفتری امور انجام دیتے ہیں، ٹھیک پونے ایک بجے کرسی سے اٹھ کر وضو کی تیاری کرتے ہیں اور پھر ظہر ادا کرتے ہیں، ان کی ٹائم منجمنٹ بھی کمال ہے، یہ مستقل کچھ سیکھتے اور پڑھتے رہتے ہیں انہوں نے حال ہی میں جامعہ کراچی سے اسپیشنل ایجوکیشن میں ایم فل بھی مکمل کرلیا ہے۔اور اب یہ پی ایچ ڈی کرنے کے خواہشمند ہیں۔

زندگی ہمیں کبھی وہ راستہ نہیں دیتی جس کا ہم نے نقشہ بنایا ہو، مگر وہ ہمیں وہ سفر ضرور دیتی ہے جس کی ہمیں اصل میں ضرورت ہوتی ہے۔ اصل امتحان وہ نہیں ہوتا جس سے ہم گزرتے ہیں، اصل امتحان یہ ہے کہ ہم اس کے بعد خود کو کہاں کھڑا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر راحت حسین کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ محرومی انجام نہیں ہوتی، اگر یقین زندہ ہو۔ جب انسان اپنے زخموں کو عذر بنانے کے بجائے مقصد بنا لے، تو معذوری طاقت میں بدل جاتی ہے اور اندھیرے میں بھی انسان کو راستہ واضح دیکھائی دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان تقدیر سے شکوہ نہیں کرتا، بلکہ اس کے فیصلے پر راضی ہو کر اپنی مثال خود بن جاتا ہے۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر