جمعرات کی رات پاکستان میں ایک ہی نام زیرِ بحث تھا، عمران خان۔جیسے ہی یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، ملک کے بیشتر ٹی وی چینلز کی توجہ اسلام آباد کی جانب مرکوز ہوگئی۔ اسپتال کے باہر کیمرے پہنچ گئے، سکیورٹی بڑھا دی گئی، سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں اور کئی گھنٹوں تک پورا ملک ایک ایسے شخص کے بارے میں تازہ اطلاع کا منتظر رہا جو گزشتہ تین برس سے جیل میں ہے۔

عمران خان نہ کسی جلسے سے خطاب کر رہے تھے، نہ پارلیمنٹ میں موجود تھے، نہ کسی احتجاج کی قیادت کر رہے تھے اور نہ ہی کوئی سیاسی بیان دے رہے تھے۔ وہ ایک قیدی تھے، جنہیں طبی معائنے کے لیے منتقل کیا جا رہا تھا۔اس کے باوجود ایک بار پھر پاکستان کی سیاسی گفتگو کا مرکز وہی تھے۔یہ سوال اب نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ اگر عمران خان کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا، تین سال سے جیل میں رکھا گیا اور ان کی سیاسی سرگرمیوں کو محدود کیا گیا، تو پھر پاکستان ان سے آگے کیوں نہیں بڑھ سکا؟شاید اس لیے کہ گزشتہ تین برسوں سے غلط مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

عمران خان اپریل 2022 میں اقتدار سے باہر ہوئے اور اگست 2023 میں گرفتار ہوئے۔ اس کے بعد ان کے خلاف متعدد مقدمات اور سزائیں سامنے آئیں۔ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو بھی شدید سیاسی اور انتخابی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 2024 کے عام انتخابات سے قبل پارٹی اپنا انتخابی نشان بھی کھو بیٹھی، جبکہ عمران خان خود جیل میں تھے۔لیکن ایک چیز ختم نہیں ہوئی، ان کے ووٹرز۔

2024 کے انتخابات میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں نے، پارٹی کے انتخابی نشان کے بغیر، قومی اسمبلی کی براہِ راست منتخب ہونے والی نشستوں میں سب سے زیادہ کامیابی حاصل کی۔ اگرچہ وہ حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہوئے اور شہباز شریف کی قیادت میں اتحادی حکومت قائم ہوئی، لیکن انتخابات نے ایک اہم حقیقت ضرور واضح کردی، عمران خان کو انتخابی میدان سے دور رکھنے کا مطلب ان کے سیاسی حامیوں کو ختم کرنا نہیں تھا۔کسی سیاست دان کو اقتدار سے باہر کیا جا سکتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اسے سیاست سے بھی باہر کیا جا سکے۔

گزشتہ تین برسوں میں عمران خان کی جسمانی غیر موجودگی تقریباً ان کی سیاسی موجودگی کی ایک نئی شکل بن گئی ہے۔ان کی قید خبر ہے۔ان کی صحت خبر ہے۔ان کے خاندان اور وکلا سے رابطے خبر ہیں۔ان کے مقدمات خبر ہیں۔اور اب ان کا اسپتال جانا بھی ایک بڑا سیاسی واقعہ بن گیا۔سپریم کورٹ نے عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا۔

حکومت نے اس معاملے پر قانونی اعتراضات اٹھائے اور سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیا۔ بعد ازاں عمران خان کو شفا کے بجائے پمز لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا، اور پھر انہیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔ تحریک انصاف نے بعد میں سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی حکم پر مکمل عمل نہیں کیا گیا۔اس تنازعے کے قانونی پہلو عدالت طے کرے گی۔

اصل مسئلہ اب صرف عمران خان نہیں رہا۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان سیاسی اختلاف کو کیسے manage کرتا ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کئی مرتبہ سیاسی تنازعات کو سیاسی قوتوں کے درمیان مقابلے کے بجائے شخصیات کو ہٹا کر حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ حکومتیں تبدیل ہوئیں، سیاسی اتحاد بنے اور ٹوٹے، جماعتیں کمزور ہوئیں، رہنما منظر سے ہٹائے گئے، لیکن بنیادی سیاسی تنازعات اکثر اپنی جگہ موجود رہے۔جب کوئی سیاست دان اقتدار سے ہٹائے جانے کے باوجود عوام میں مقبول رہے تو جمہوری نظام اس کے ساتھ کیا کرتا ہے؟

ایک جمہوری نظام میں بنیادی جواب واضح ہونا چاہیے۔اسے قابلِ اعتماد قواعد کے تحت مقابلہ کرنے دیا جائے، اور پھر اسے جیتنے یا ہارنے دیا جائے۔اگر قانون اسے انتخابات میں حصہ لینے سے روکتا ہے تو اس پابندی کو آزاد عدالتی جانچ اور عوامی اعتماد کے امتحان سے گزرنا چاہیے۔ صرف سیاسی اخراج کو سیاسی مسئلے کا مستقل حل سمجھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔تین سال اس مفروضے کو آزمانے کے لیے کافی عرصہ ہے۔ عمران خان اب بھی جیل میں ہیں، لیکن ان کی سیاسی تحریک ختم نہیں ہوئی۔ ان کی جماعت شدید مشکلات کے باوجود انتخابات میں قابلِ ذکر حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ وہ خود عوامی سیاست سے دور ہیں، لیکن ان کا نام اب بھی پاکستان کی سیاسی بحث کے مرکز میں ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ عمران خان کو دوبارہ اقتدار میں آنا چاہیے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ پاکستان انہیں سیاسی طور پر غیر متعلق بنانے میں کامیاب نہیں ہوا۔اور شاید یہی وہ حقیقت ہے جسے اب تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔جمہوریت کسی سیاست دان کو پسند کرنے کی پابند نہیں۔ اسے عمران خان سے اتفاق کرنے کی ضرورت نہیں۔ اسے لازماً انہیں دوبارہ اقتدار میں بھی نہیں لانا۔لیکن اسے اس امکان کو قبول کرنا ہوگا کہ عوام انہیں دوبارہ منتخب کرنا چاہیں تو کیا ہوگا۔

سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ عمران خان کو سیاست سے باہر کیسے رکھا جائے؟سوال یہ ہونا چاہیے کہ ایسا سیاسی نظام کیسے بنایا جائے جو عمران خان کے جیتنے، ہارنے، مذاکرات کرنے یا سیاست سے الگ ہونے، کسی بھی صورت میں ملک کو بحران کا شکار نہ ہونے دے؟جمعرات کی رات تین سال سے جیل میں موجود ایک شخص، بغیر ایک لفظ کہے، ایک بار پھر پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی خبر بن گیا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تین سال کی قید بھی انہیں پاکستانی سیاست سے مائنس نہیں کر سکی۔ وہ جیل میں قید ہیں، مگر ان کی سیاست آزاد ہے؛ ان کی نقل و حرکت محدود ہے، مگر ان کا سیاسی اثر نہیں اور سچ یہ ہے کہ وہ آزاد قیدی ہے۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر