’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ کب کا دفن ہو چکا، بلکہ اب اس کی قبر پر بھی کسی اور جماعت کا جھنڈا گڑا نظر آتا ہے۔ نعرہ لگانے والے خود بھول چکے کہ عزت کس چیز کا نام تھا۔ حقیقی آزادی کی پارٹی بکھر گئی۔ کچھ اندر بند ہیں، کچھ باہر بیٹھ کر "مذاکرات مذاکرات" کھیل رہے ہیں۔
عوامی نعرے کے ساتھ اٹھنے والی پارٹی کا "بھٹو" بھی اب صرف قد آدم بینرز اور ڈیجیٹل اسٹیکرز میں زندہ ہے، فیصلوں میں کہیں نظر نہیں آتا۔ میثاق جمہوریت والا کاغذ؟ وہ کب کا دیمک کی خوراک بن چکا، بس فائل کا نام ابھی تک ریکارڈ میں موجود ہے، جیسے قبرستان میں پرانی قبروں کے کتبے۔
ایسے میں جماعتِ اسلامی کا "بدل دو نظام" کا نعرہ محض تقریر نہیں رہا، باقاعدہ صنعت بن چکا ہے، جس کی برانچیں اب دیر بالا سے لے کر ملتان تک، لوئر دیر سے لے کر لاہور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ہر جلسے میں وہی جملہ دہرایا جاتا ہے ’ 79 سال میں صرف چہرے بدلے، نظام نہیں۔‘ اور سامعین ہر بار یوں تالیاں بجاتے ہیں جیسے یہ جملہ آسمانی صحیفے سے ابھی ابھی نازل ہوا ہو۔
اب "شاخیں نہیں، جڑ سے اکھاڑیں گے" کا نعرہ بھی شامل ہو چکا ہے۔ سیاست اب باغبانی کی اصطلاحوں میں بیان ہو رہی ہے، بس کدال ابھی تک "پائپ لائن میں" ہے، اور جڑیں پچھلے 79 سال سے اتنی گہری ہیں کہ شاید اکھاڑنے سے پہلے کدال ہی جواب دے جائے۔
حافظ صاحب کا تازہ محاذ پیٹرول کی قیمت ہے، عالمی منڈی میں خام تیل سستا، مگر عوام کی جیب سے وصولی مہنگی، جیسے پیٹرول پمپ اور خزانہ دونوں کسی متوازی کائنات میں آپریٹ ہو رہے ہوں جہاں ڈالر کی قیمت الگ اصولوں پر چلتی ہے۔ حکومت کا جواب ہمیشہ کی طرح ایک وزارتی پریس کانفرنس، جس میں "بین الاقوامی عوامل" کا حوالہ دے کر معاملہ یوں نمٹا دیا جاتا ہے جیسے پیٹرول کی قیمت کا فیصلہ اسلام آباد میں نہیں، مریخ پر ہوتا ہو۔
جماعتِ اسلامی کا دعویٰ ہے کہ 20 لاکھ نوجوان "بنو قابل" میں رجسٹرڈ ہیں یعنی روزگار نہ ملنے کی صورت میں کم از کم رجسٹریشن نمبر تو مل ہی جاتا ہے، سرٹیفکیٹ فریم کروا کر دیوار پر لگا لیں، بے روزگاری میں سجاوٹ ہی سہی۔ آئی پی پیز معاہدوں کے خاتمے کا کریڈٹ بھی لیا جا رہا ہے، عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی وقفے وقفے سے کیا جاتا ہے۔ گویا نعرہ اب ایک مکمل "کمبو ڈیل" بن چکا ہے۔ یعنی نظام بھی بدلو، قیدی بھی رہا کرو، پیٹرول بھی سستا کرو۔ بس ایک ہی جلسے کی ٹکٹ میں سب کچھ شامل۔
جماعت اسلامی اس وقت کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں چار دھرنوں پر موجود ہے، احتجاج پر بیٹھے کارکنوں اور قائدین کا مطالبہ ہے کہ پٹرولیم لیوی کو ختم کرکے پٹرول کی فی لٹر قیمت 225 روپے تک لائی جائے۔ حافظ نعیم الرحمان نے لاہور میں تقریر میں واضح کردیا کہ کوئی چھیڑ چھاڑ کی تو یہ احتجاج حکومت گراؤ تحریک میں بدل جائے گا۔ انہوں کارکنوں کو دھرنوں میں مختلف ضروریات کے سٹال لگانے کی بھی ہدایت کردی۔ یعنی پروگرام لمبا چلے گا۔
سوشل میڈیا پر مخالفین اب بھی طنز کرتے ہیں، مگر بڑھتے ہجوم نے طنز کی دھار خود ہی کند کر دی ہے۔ خوف اسی بات کا ہے کہ اگر حافظ صاحب یونہی جلسے در جلسے چلتے رہے، تو "کپتان" اور "بھٹو" کے پرانے بینرز کہیں نئے قد آور بینرز کے نیچے، بغیر جنازے کے، دبے کے دبے ہی رہ جائیں۔
سوال یہ کہ کیا حکومت حافظ صاحب کے دباؤ میں آئے گی یا آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے نبھائے گی۔ کیونکہ پٹرولیم لیوی کے سب پیسے قرضوں کی واپسی کی صورت عالمی ادارے کی تجوری میں جارہے ہیں۔ گزشتہ مالی سال 15 سو ارب روپے سے زائد آئی ایم ایف کو لیوی کے مد میں دیے گئے، اگلے سال 17 سو ارب روپے اسی مد میں وصول کرنے کا ہدف ہے۔
جواب شاید وقت کے پاس ہے یا شاید اگلے جلسے کے اسٹیج بیک ڈراپ پر پہلے سے چھپوایا جا چکا ہو۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







