موبائل اٹھایا تو معلوم ہوا سوشل میڈیا پر پوری قوم دو کیمپوں میں بٹی ہوئی ہے: ایک وہ جو "مبارک ہو" لکھ رہے ہیں، دوسرے وہ جو پوچھ رہے ہیں "مبارک کس بات کی؟" دونوں ہی درست ہیں، بس موڈ کا فرق ہے۔
ایکسپو سینٹر پہنچا تو وہاں ’میرا برینڈ پاکستان‘ کی نمائش لگی تھی۔ یہ ایک مثبت اور خوبصورت میلہ تھا جس میں ہر طرف پاکستان کی بنی چیزیں سجی تھیں۔ دفتر جاتے ہوئے سرکاری عمارتوں پر سبز سفید روشنیاں یوں جگمگا رہی تھیں جیسے بجلی کا بل کسی اور ملک نے دینا ہو۔ سیٹ پر بیٹھا تو خیال آیا۔۔۔۔ 79 سال کی عمر ایک انسان کے لیے بزرگی ہوتی ہے، ریٹائرمنٹ کا وقت، پوتوں کے ساتھ کھیلنے کا زمانہ۔ لیکن ایک ملک کے لیے یہ عمر ابھی بھی "ابتدائی مراحل" شمار ہوتی ہے۔۔۔ کم از کم ہمارے ہاں تو یہی سنتے آئے ہیں۔
تو سنیے، یہ کہانی خود پاکستان کی زبانی:
میں پاکستان ہوں۔ 1947 میں جب پیدا ہوا تو ہاتھ میں نقشہ تھا، جیب میں کچھ نہیں۔ رہنماؤں نے وعدہ کیا تھا کہ جلد امیر ہو جاؤں گا۔ 79 سال ہو گئے، ابھی تک "جلد" کا انتظار ہے۔ اتنے میں ہمسائے میں پیدا ہونے والا چین، جو کبھی سائیکل پر گھومتا تھا، اب خلا میں چہل قدمی کر رہا ہے۔ اور میں؟ میں اب بھی لوڈشیڈنگ کے شیڈول کا انتظار کر رہا ہوں کہ کب بجلی آئے گی۔ کب پٹرول سستا ہو۔ کب قرض کم ہو اور کب تنخواہ بڑھے۔
میرے آئین کے ساتھ وہی سلوک ہوا جو عام پاکستانی کے موبائل فون کے ساتھ ہوتا ہے۔ بار بار ہینگ ہوا، بار بار ری سٹارٹ کیا گیا، اور بالآخر لوگوں نے بیک اپ کاپی رکھنی چھوڑ دی۔ کبھی مارشل لا کا "اپڈیٹ" آیا، کبھی جمہوریت کا "پیچ" لگایا گیا، سسٹم پھر بھی وہی پرانا۔
سیاستدانوں نے ہر بار وعدہ کیا: "روٹی، کپڑا، مکان دوں گا۔" 79 سال بعد بھی روٹی مہنگی ہے، کپڑا درآمدی ہے، اور مکان کا خواب کرائے کے فلیٹ میں دفن ہو چکا ہے۔ کسی نے کہا "سپر پاور بنا دوں گا"، تو ہم نے سوچا چلو بجلی ہی سستی کر دو، سپر پاور بعد میں دیکھ لیں گے۔
میرے تھانے، میرے ہسپتال، میرے سکول۔۔۔۔ سب اس امید پر چل رہے ہیں کہ شاید اگلی حکومت کچھ بہتر کر دے۔ اور اگلی حکومت اسی امید پر ٹیکس بڑھاتی ہے کہ عوام "سمجھدار" ہیں، برداشت کر لیں گے۔ اور عوام واقعی برداشت کر لیتے ہیں۔۔۔ کیونکہ برداشت اب قومی کھیل بن چکا ہے، کرکٹ سے بھی زیادہ مقبول۔
پھر بھی، ہر سال 14 اگست کو میں جھوم اٹھتا ہوں۔ جھنڈے لہراتے ہیں، گیت بجتے ہیں، رہنما تقریریں کرتے ہیں کہ "اتحاد اور اصلاحات کی ضرورت ہے" ۔۔۔ جیسے یہ جملہ پہلی بار کہا جا رہا ہو۔ عوام تالیاں بجاتے ہیں، کیونکہ تالی بجانا مفت ہے، باقی سب کچھ مہنگا ہو چکا۔
اور اسی سوچ میں گم تھا کہ کسی نے کندھا ہلا کر کہا: "چلو یار، آزادی مبارک ہو۔" میں نے مسکرا کر کہا: "مبارک ضرور ہے، بس یہ بتاؤ کہ آزادی کب ملے گی؟"
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







