لیکن اس روشن ڈیجیٹل انٹرفیس سے باہر، شہر کی سڑکوں پر جہاں بارش سے پھسلن پیدا ہو چکی ہے، یہی الٹی گنتی ایک غیر مرئی گھڑی بن جاتی ہے۔ یہ 19 سالہ ڈیلیوری رائیڈر کو ایک خستہ حال 70 سی سی موٹر سائیکل پر موسلا دھار بارش میں تیز رفتاری سے سفر کرنے، بے ہنگم ٹریفک کے درمیان راستہ بنانے اور ہر لمحہ حادثے کے خطرے سے دوچار ہونے پر مجبور کرتی ہے۔ اسے مسلسل یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ اگر ڈیلیوری میں صرف تین منٹ کی تاخیر ہوئی تو اس کی دن بھر کی کمائی ضائع ہو سکتی ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی کے تیز رفتار عمل نے ایک وسیع پلیٹ فارم اکانومی کو جنم دیا ہے۔ فوری ڈیلیوری کی سہولت فراہم کرنے والے نئے کاروبار، کھانے کی ڈیلیوری کی ایپلی کیشنز اور آن ڈیمانڈ سروسز نے کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے شہری صارفین کے طرزِ زندگی کو بدل دیا ہے۔
ان خدمات کو ’’گِگ اکانومی‘‘ کے پرکشش تصور کے تحت پیش کیا جاتا ہے، جہاں کام کے لچک دار اوقات اور کاروباری خودمختاری کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ اشتہارات میں ڈیلیوری ورکرز کو اپنا مالک دکھایا جاتا ہے، جو اپنی مرضی کے اوقات میں کام کرتے اور باعزت روزگار کماتے ہیں۔
تاہم، کارپوریٹ تشہیر کی چمک دمک سے پردہ ہٹایا جائے تو ایک بالکل مختلف اور استحصالی حقیقت سامنے آتی ہے۔ پاکستان میں فوری ڈیلیوری کا کاروباری ماڈل بنیادی طور پر انسانی مجبوریوں کو منافع کے لیے استعمال کرنے اور کاروباری خطرات کا بوجھ مزدور طبقے کے کمزور ترین افراد پر منتقل کرنے پر قائم ہے۔
الگورتھم: ایک غیر مرئی اور بے رحم آجر
اس تیز رفتار نظام کو چلانے والی بنیادی قوت محض ٹیکنالوجی کی ذہانت نہیں بلکہ ایک ایسا الگورتھم ہے جو ایک بے رحم آجر کی طرح کام کرتا ہے۔
روایتی ملازمتوں میں کارکنوں کی نگرانی انسانی سپروائزر کرتے ہیں، لیکن ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ڈیلیوری رائیڈرز کو خودکار الگورتھمز کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ یہ نظام آرڈرز تقسیم کرتا، راستوں کا تعین کرتا، رفتار کی نگرانی کرتا اور کارکردگی کی درجہ بندی کرتا ہے۔
اگر کوئی رائیڈر دور دراز مقام پر ڈیلیوری کرنے سے انکار کر دے، مصروف اوقات میں مختصر وقفہ لے یا خراب موسم کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہو جائے تو الگورتھم اسے سزا دے سکتا ہے۔
کارکردگی کی درجہ بندی میں کمی کا براہِ راست اثر رائیڈر کی پلیٹ فارم پر حیثیت پر پڑتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اسے زیادہ آرڈرز والے اوقات اور زیادہ آمدنی کے امکانات رکھنے والے علاقوں تک رسائی کم مل سکتی ہے۔
یوں یہ الگورتھم رائیڈرز کو مسلسل ذہنی دباؤ اور جلد بازی کی کیفیت میں رکھتا ہے۔ انہیں بالواسطہ طور پر ٹریفک سگنل توڑنے، حفاظتی تدابیر نظرانداز کرنے اور اپنی جان خطرے میں ڈالنے پر مجبور کیا جاتا ہے، صرف اس لیے کہ وہ کمپنی کی جانب سے مقرر کردہ غیر حقیقت پسندانہ ڈیلیوری وقت کی پابندی کر سکیں۔
مہنگائی، ایندھن اور کم ہوتی آمدنی
الگورتھم کے دباؤ کے ساتھ معاشی مشکلات بھی ڈیلیوری ورکرز کی زندگی کو مزید دشوار بنا رہی ہیں۔
مہنگائی کی بلند شرح اور پیٹرولیم لیویز کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے ان کارکنوں کے اخراجات بڑھا دیے ہیں۔ اس کے باوجود بڑی ڈیلیوری کمپنیوں میں فی آرڈر بنیادی معاوضے میں اضافہ مہنگائی کی رفتار کے مطابق نہیں ہو سکا۔
ڈیلیوری رائیڈرز اپنے کام سے متعلق تقریباً تمام اخراجات خود برداشت کرتے ہیں۔ وہ اپنی موٹر سائیکل خریدتے ہیں، اس کی مسلسل مرمت اور دیکھ بھال کے اخراجات اٹھاتے ہیں، موبائل انٹرنیٹ پیکجز خریدتے ہیں اور ایندھن کے پیسے بھی اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں۔
جب 12 سے 14 گھنٹے کی مسلسل محنت کے بعد ایندھن کے اخراجات اور موٹر سائیکل کی قدر میں کمی کو آمدنی سے منہا کیا جاتا ہے تو بہت سے رائیڈرز کی خالص کمائی قومی کم از کم اجرت سے بھی کم رہ جاتی ہے۔
جس روزگار کو آزادی اور لچک کے نام پر پیش کیا جاتا ہے، وہ درحقیقت غربت کے ایک ایسے چکر میں تبدیل ہو چکا ہے جس سے نکلنا مشکل ہے۔ بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کارکنوں کو طویل، تھکا دینے والے اور خطرناک اوقات میں کام کرنا پڑتا ہے۔
صارفین کی سہولت اور انسانی ہمدردی کا فقدان
فوری ڈیلیوری کے اس کاروباری ماڈل کا شاید سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہ صارفین میں انسانی محنت کے حوالے سے بے حسی پیدا کرتا ہے۔
جدید ڈیجیٹل ایپلی کیشنز کو اس انداز میں ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ صارف کو سروس کی فراہمی میں شامل انسانی محنت کا احساس کم سے کم ہو۔ اسکرین پر جی پی ایس نقشے پر حرکت کرتا ہوا ایک چھوٹا سا نشان دکھائی دیتا ہے، لیکن اس نشان کے پیچھے موجود انسان نظر نہیں آتا، جو خراب موسم، ہراسانی اور خطرناک سڑکوں کا سامنا کرتے ہوئے آرڈر پہنچا رہا ہوتا ہے۔
جب ڈیلیوری میں چند منٹ کی تاخیر ہو جائے تو بعض صارفین غصے کا اظہار کرتے ہوئے ایک اسٹار کی منفی ریٹنگ دے دیتے ہیں یا کسٹمر سروس کے ذریعے شکایت درج کرا دیتے ہیں۔
گِگ اکانومی کے اس خودکار نظام میں ایک منفی ریویو بھی رائیڈر کے اکاؤنٹ کی معطلی یا مالی جرمانے کا سبب بن سکتا ہے۔ یوں محض اس وجہ سے کہ فرائز گرم نہیں رہیں یا آرڈر چند منٹ دیر سے پہنچا، ایک کارکن کی پورے دن کی معمولی کمائی ضائع ہو سکتی ہے۔
یہ صورتِ حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صارفین کی سہولت کے لیے تیار کیے گئے نظام میں ڈیلیوری کرنے والے انسان کی ضروریات، حالات اور تحفظ کو کس قدر نظرانداز کیا جاتا ہے۔
قانون کی خامیاں اور مزدوروں کا عدم تحفظ
یہ استحصالی نظام پاکستان میں قانون سازی کی سنگین خامیوں کے باعث بھی برقرار ہے۔
پاکستان کا فرسودہ قانونی ڈھانچہ، جس میں فیکٹریز ایکٹ 1934 اور ویسٹ پاکستان انڈسٹریل اینڈ کمرشل ایمپلائمنٹ آرڈیننس 1968 جیسے قوانین شامل ہیں، روایتی کارخانوں اور کاروباری اداروں کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا گیا تھا۔ ان قوانین میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کام کرنے والے گِگ ورکرز کے لیے واضح قانونی تحفظات موجود نہیں ہیں۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اس صورتِ حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ڈیلیوری ورکرز کو ’’تھرڈ پارٹی وینڈرز‘‘، ’’آزاد ٹھیکے دار‘‘ یا ’’ڈیلیوری پارٹنرز‘‘ قرار دیتے ہیں۔ کارکنوں کو باقاعدہ ملازم تسلیم نہ کرنے کے اس طریقۂ کار کے ذریعے کمپنیاں آجر کی حیثیت سے عائد ہونے والی متعدد قانونی ذمہ داریوں سے بچ سکتی ہیں۔
نتیجتاً پاکستان میں گِگ ورکرز کو ملازمت کا تحفظ، طبی سہولیات، بیماری کی صورت میں بااجرت چھٹی، پنشن اور دورانِ ڈیوٹی سنگین ٹریفک حادثے یا موت کی صورت میں معاوضے جیسی بنیادی سہولیات میسر نہیں ہوتیں۔
یہ قانونی خلا ڈیجیٹل معیشت کی ترقی اور اس میں کام کرنے والے افراد کے حقوق کے درمیان ایک واضح عدم توازن پیدا کرتا ہے۔
استحصال کے خاتمے کے لیے کیا کرنا ہوگا؟
اس ساختی ناانصافی کا ازالہ کرنے کے لیے حکومتی پالیسی، قانونی ضابطوں اور صارفین کے رویوں میں فوری تبدیلی ضروری ہے۔
سب سے پہلے وفاقی اور صوبائی محکمہ ہائے محنت کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کام کرنے والے افراد کو باقاعدہ قانونی دائرے میں تسلیم کرنا ہوگا۔ ایسی قانون سازی کی ضرورت ہے جو گِگ ورکرز کے لیے کم از کم اجرت مقرر کرے اور اس میں مہنگائی کے ساتھ موٹر سائیکل، ایندھن اور دیگر عملی اخراجات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
دوسرا، متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے یہ لازمی قرار دینا چاہیے کہ وہ اپنے تمام فعال رائیڈرز کو حادثات کی انشورنس، حفاظتی سامان اور ہنگامی مالی امداد فراہم کریں۔
اس کے علاوہ الگورتھم کی شفافیت کو قانونی طور پر یقینی بنایا جانا چاہیے۔ کمپنیوں کو ایسے غیر حقیقت پسندانہ ڈیلیوری اوقات مقرر کرنے سے روکنا ضروری ہے جو رائیڈرز کو خطرناک ڈرائیونگ پر مجبور کرتے ہیں۔
صارفین کا کردار بھی اہم ہے
آخر میں شہری صارفین کے رویوں میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ غیر معمولی سہولت کبھی مفت نہیں ہوتی۔ جب کوئی سروس ناقابلِ یقین حد تک تیز یا سستی ہو تو اکثر اس کی اصل قیمت کسی دوسرے انسان کی صحت، تحفظ اور فلاح کی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔
صارفین کو چاہیے کہ وہ ڈیلیوری کمپنیوں سے حقیقت پسندانہ وقت مقرر کرنے کا مطالبہ کریں، ٹریفک یا خراب موسم کے باعث ہونے والی تاخیر پر رائیڈرز کو سزا دینے سے گریز کریں اور گِگ ورکرز کے ساتھ احترام اور ہمدردی کا برتاؤ کریں۔
کسی معاشرے کی ترقی کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ اس کے خوش حال شہری کتنی تیزی سے اپنے گھر کی دہلیز پر کھانا منگوا سکتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کی زندگیوں اور عزتِ نفس کا تحفظ کس قدر منصفانہ انداز میں کرتا ہے جو یہ سہولت ممکن بناتے ہیں۔







