آج کی کہانی بھی ایک ایسے ہی نشہ کرنے والے شخص کی ہے، جوکہ ایک ایلیٹ کلاس طبقے میں پیدا ہوا، ایچیسن سے تعلیم حاصل کی، برطانیہ گیا، کرکٹر بنا، سماجی کارکن بنا، پھر سیاست دان بنا اور اب قیدی نمبر 804 بن چکا ہے۔

ہمارے ہاں نشہ کرنے والوں کو دھتکارا جاتا ہے، ان سے نفرت کی جاتی ہے، لوگ اسے گناہگار سمجھتے ہیں لیکن اگر تعصب کے تمام چہرے اتار کر انسانی نفس کا گہرا مطالعہ کیا جائے، تو ہر نشہ کسی مائع، کیمیکل یا دھویں کا محتاج نہیں ہوتا، کچھ نشے خیالات کے ہوتے ہیں، کچھ مزاحمت کے اور کچھ ایک ایسا سرور ہوتے ہیں جو انسان سے اس کا سکون، اس کی آرام دہ زندگی اور کبھی کبھار اس کی آزادی تک چھین لیتے ہیں۔

یہ ایک ایسا ’مہنگا نشہ‘ ہے جس میں مبتلا شخص کو بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی قیمت آنسو گیس کے دھویں، پولیس کے ڈنڈوں اور جیل کی قیدِ تنہائی کی صورت میں ادا کرنی پڑے گی

مگر اس کے باوجود اس کا خمار اترنے کا نام نہیں لیتا اور جب یہی خمار ایک پورے ملک کے کروڑوں لوگوں کے اعصاب پر سوار ہو جائے اور اقتدار کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دے، تو انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر اس سحر کے پیچھے کون سا چہرہ ہے؟

عمران خان کی شخصیت کا سحر راتوں رات پیدا نہیں ہوا، اس کا آغاز ان کی جوانی اور کرکٹ کے میدان سے ہوتا ہے، نیازی خاندان میں آنکھ کھولنے والے عمران خان نے ایچیسن کالج سے تعلیم حاصل کی اور پھر آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کی۔

1970ء اور 80ء کی دہائی میں جب انہوں نے کرکٹ کی دنیا میں قدم رکھا، تو وہ صرف ایک فاسٹ باؤلر نہیں تھے، بلکہ اپنی دلکش شخصیت اور قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے عالمی کرکٹ کے سب سے بڑے آئیکن بن کر ابھرے۔

1992ء کا ورلڈ کپ ان کے کیریئر کا نقطہ عروج تھا، جہاں شدید زخمی ہونے اور کندھے کے درد کے باوجود انہوں نے نہ صرف ٹیم کی قیادت کی بلکہ اپنی ٹیم کو'Cornered Tigers' کا نعرہ دے کر عالمی چیمپئن بنا دیا۔

کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد، اپنی والدہ شوکت خانم کی سرطان کے باعث وفات کی یاد میں لاہور میں 'شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال' کی تعمیر نے ان کے بارے میں عوامی تاثر کو مکمل طور پر بدل دیا۔

ایک ایسا ملک جہاں غریبوں کے لیے کینسر کا علاج ناممکن تھا، وہاں مفت علاج فراہم کرنے والے اس ہسپتال کے لیے عمران خان نے اندرون اور بیرون ملک جھولی پھیلا کر فنڈز اکٹھے کیے، میرے ایک عزیز بتاتے ہیں کے جب عمران خان لاہور کی سڑکوں پر فنڈ ریزنگ کے لیے نکلتے تو خواتین چھتوں پر چڑھ کر اپنے سونے کے کنگن ، ہار اور انگوٹھیاں اتار کر عمران خان پر نچھاور کرتیں۔

عمران خان کے فلا حی کام یہاں تک رکے نہیں بلکے نمل یونیورسٹی کا قیام بھی کیا ، جہاں غریب بچوں کو بین الاقوامی ڈگری فراہم کی جاتی ہے، ان کے سماجی خدمات کے سفر کی دوسری بڑی کامیابی بنا۔

اپریل 1996ء میں جب عمران خان نے 'پاکستان تحریک انصاف' (پی ٹی آئی) کی بنیاد رکھی، تو اس وقت کے سیاست دانوں نے ان کاد مذاق اڑایا اور یہ مانا جاتا تھا کہ ایک کرکٹ کا ستارہ کبھی ایک کامیاب سیاست دان نہیں بن سکتا، 1997ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی کو پورے ملک سے ایک بھی نشست نہ مل سکی اور تمام امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہو گئیں۔

2002ء کے انتخابات میں عمران خان صرف میانوالی کی اپنی آبائی نشست سے اکیلے ممبر قومی اسمبلی بن سکے، وہ پارلیمنٹ میں بالکل تنہا تھے اور مخالفین انہیں طنزاً 'ایک بندے کی پارٹی' یا 'ون مین شو' کہتے تھے۔ اس کے بعد 2008ء کے انتخابات کا انہوں نے اس موقف پر بائیکاٹ کیا کہ جنرل پرویز مشرف کی زیرِ نگرانی شفاف انتخابات ممکن نہیں۔

تقریباً 15 سال تک عمران خان پاکستان کے سیاسی افق پر تنہا جدوجہد کرتے رہے۔ ان کے ابتدائی جلسوں میں بمشکل چند سو لوگ ہوتے تھے، مگر وہ بدعنوانی، خاندانی سیاست، اور انصاف کی فراہم کے اپنے بیانیے پر ڈٹے رہے۔

30 اکتوبر 2011ء کو لاہور کے مینارِ پاکستان پر ہونے والا پی ٹی آئی کا جلسہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا اہم موڑ تھا جس نے روایتی سیاست کو جڑ سے ہلا کر رکھ دیا۔ اس دن لاکھوں کے مجمعے نے ثابت کر دیا کہ ملک کا نوجوان طبقہ اور عام شہری روایت سے ہٹ کر ایک نیا متبادل چاہتے ہیں۔

اس کے بعد 2013ء کے جنرل الیکشنز کی مہم کے دوران ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جب لاہور میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کے لیے اسٹیج پر جاتے ہوئے عمران خان لفٹر سے گر کر شدید زخمی ہو گئے۔ ان کے سر اور کمر میں شدید چوٹیں آئیں اور وہ آئی سی یو پہنچ گئے۔

اسپتال کے بستر سے درد کی حالت میں دیا گیا ان کا ویڈیو پیغام عوام کے دلوں میں اتر گیا اور یہی وہ وقت تھا جب ان کی مقبولیت ایک جنون میں بدل گئی۔ 2013ء کے ان الیکشنز میں پی ٹی آئی وفاق میں دوسری بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری اور خیبر پختونخوا میں پہلی بار اپنی حکومت بنائی۔ وفاق میں دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے عمران خان نے 2014ء میں اسلام آباد کے ڈی چوک پر تاریخی 126 دن کا طویل دھرنا دیا، جس نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار خواتین کو سیاست کا حصہ بنایا اور گھر گھر سیاسی شعور پہنچا دیا۔

پانامہ لیکس کے خلاف سڑکوں پر مسلسل احتجاج اور 2018ء تک انتھک مہم کے بعد بالآخر الیکشن میں کامیابی حاصل کر کے عمران خان پاکستان کے 22ویں وزیراعظم بن گئے۔

جب پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا (کےپی) میں حکومت سنبھالی، تو اس صوبے کی تاریخ میں پہلی بار کسی پارٹی کو مسلسل عوامی اعتماد حاصل ہوا اور پی ٹی آئی نے 2013ء سے لے کر 2026ء تک کے طویل عرصے میں لگاتار حکومتیں قائم رکھیں۔

خیبر پختونخوا میں پولیس کو مکمل طور پر سیاست پاک کر کے ایک پیشہ ور ادارہ بنایا گیا، 'صحت انصاف کارڈ' جیسے انقلابی منصوبے سے ہر شہری کو مفت علاج فراہم کیا گیا اور تعلیم و ماحولیات کے شعبے میں 'بلین ٹری سونامی' جیسے عالمی سطح پر سراہے جانے والے پراجیکٹس شروع کیے گئے۔

فاٹا کا خیبر پختونخوا میں ضم ہونا اور انفراسٹرکچر کی بہتری نے عوام کو اس حد تک متاثر کیا کہ خیبر پختونخوا عمران خان کا وہ مضبوط ترین قلعہ بن گیا جہاں کی عوام نے ہر مشکل وقت، آپریشنز اور بحرانوں کے باوجود پی ٹی آئی اور عمران خان کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑا، البتہ 11 اکتوبر 2026 کو صدر پاکستان کے احکامات سے صوبہ میں گورنر راج اور 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

اپریل 2022ء میں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے حکومت کے خاتمے کے بعد عمران خان کی عوامی مقبولیت میں ایک غیر معمولی اور ریکارڈ اضافہ دیکھنے کو ملا۔ جب نومبر 2022ء میں وزیر آباد میں 'حقیقی آزادی مارچ' کے دوران ان کے کنٹینر پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اور ان کی ٹانگ میں گولیاں لگیں، تو ملک بھر میں غصے اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔

اس حملے کے بعد جب وہ لاہور میں اپنے گھر منتقل ہوئے، تو زمان پارک ان کے حامیوں اور کارکنوں کا مضبوط قلعہ بن گیا۔ سخت سردی، بارش اور پولیس کے چھاپوں و آنسو گیس کی شیلنگ کے باوجود ہزاروں جیالے، نوجوان اور بزرگ زمان پارک کے باہر ڈیرے جما کر بیٹھ گئے اور دن رات اپنے لیڈر کی حفاظت کے لیے پہرہ دیتے رہے۔

زمان پارک کا وہ منظر پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بے مثال تھا جہاں عوام اپنے محبوب لیڈر کے لیے گولی کھانے کو بھی تیار کھڑے تھے۔ اس کے بعد ان پر قانونی اور عدالتی شکنجہ کسنے کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔

ان پر توشہ خانہ کے تحائف کو سستے داموں بیچنے کے الزامات کے تحت مقدمات بنائے گئے اور پھر 190 ملین پاؤنڈ کے برطانیہ سے ان کے دورِ حکومت میں آنے والے رقم سے متعلق القادر ٹرسٹ کیس میں سنگین الزامات عائد کیے گئے۔

9 مئی 2023ء کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے رینجرز کے ذریعے جس ڈرامائی اور پرتشدد انداز میں شیشے توڑ کر انہیں گرفتار کیا گیا، اس نے ملک بھر میں ایک آگ بھڑکا دی۔ اس گرفتاری کے بعد ردِعمل میں ہونے والے 9 مئی کے واقعات کو بنیاد بنا کر پی ٹی آئی کے خلاف ایک ہمہ گیر کریک ڈاؤن کا آغاز کیا گیا۔

عمران خان میں ایسی کون سی طلسماتی بات ہے کہ لوگ ان کے عشق میں گرفتار ہیں؟ اس کی سب سے بڑی وجہ ان کا خاندانی سیاست سے پاک امیج ہے، کیونکہ انہوں نے اس روایتی سیاسی نظام کو چیلنج کیا جہاں مخصوص خاندان دہائیوں سے مسلط تھے۔

اس کے ساتھ ساتھ غیر ملکی تسلط کے خلاف ان کا 'Absolutely Not' کا نعرہ اور اقوامِ متحدہ میں اسلاموفوبیا پر ان کا خطاب عوام کے دلوں کو چھو گیا۔ عوام کی اکثریت آج بھی انہیں ذاتی مالی بدعنوانی سے پاک اور ایک خوددار رہنما کے طور پر دیکھتی ہے۔

انہوں نے ملک کے اس نوجوان طبقے اور خواتین کو سیاست کے عمل میں شامل کیا جو پہلے کبھی الیکشنز میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔

اقتدار سے بے دخلی اور قید کے بعد بھی عمران خان پر مقدمات بنا کر انہیں اڈیالہ جیل کے ڈیتھ سیل اور تاریک کوٹھڑی میں قید رکھا گیا ہے، جہاں انہیں انسانی سہولیات سے محروم رکھ کر ذہنی طور پر توڑنے کی کوشش کی گئی۔

سینئر صحافی حامد میر کے بقول عمران خان 'نواز شریف' بن کر نہیں نکلنا چاہتے یعنی وہ کسی 'ڈیل' یا این آر او کے تحت بیرون ملک جانے یا خاموش بیٹھنے کے بجائے جیل کے اندر اپنے اصولوں پر کھڑے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر عالمی تاریخ کو دیکھا جائے تو نیلسن منڈیلا نے نسل پرستی کے خلاف 27 سال قید کاٹی اور رہائی کے بعد جنوبی افریقہ کے صدر بنے، جب کہ برازیل کے لوئس اناسیو لولا ڈی سلوا کو بھی ایسے ہی کرپشن کے الزامات میں قید کیا گیا لیکن بعد میں عوام نے انہیں دوبارہ بھاری اکثریت سے اپنا صدر منتخب کیا۔

اگر پاکستان کے موجودہ سیاسی سیٹ اپ اور طاقت کے توازن کو دیکھا جائے تو قانونی شکنجے اور سیاسی فریقین کی ضد کے باعث عمران خان کی فوری رہائی ہوتی نظر نہیں آ رہی۔

اگر پی ٹی آئی کے موجودہ بحران کا تجزیہ کیا جائے تو اس کے دو بنیادی پہلو سامنے آتے ہیں۔ایک طرف جہاں 9 مئی کے بعد اسٹیبلشمنٹ اور ریاست کا شدید ترین دباؤ، گرفتاریوں کا خوف اور قانونی شکنجہ تھا جس کی وجہ سے کئی سیاست دان پارٹی چھوڑ گئے، وہاں عمران خان کی ایک بڑی کمزوری یہ بھی رہی کہ انہوں نے اپنے 27 سالہ سیاسی سفر میں اپنے بعد کوئی مضبوط اور متبادل جانشین (سیکنڈ لائن لیڈرشپ) تیار نہیں کی اور نہ ہی کسی پر مکمل اعتماد کیا۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مرکزی قائد کی قید کے بعد پی ٹی آئی کی موجودہ لیڈرشپ اور عہدیداروں کا کردار شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ آج پی ٹی آئی کے عام ورکرز کی ایک بڑی تعداد کا یہ ماننا ہے کہ پی ٹی آئی کی موجودہ مرکزی قیادت خود یہ چاہتی ہی نہیں کہ عمران خان جیل سے باہر آئیں۔

یہ رہنما عمران خان کے نام پر اپنی اپنی سیاسی دوکانیں چمکا رہے ہیں، پارٹی کے عہدوں پر قابض ہیں اور جلسوں و پریس کانفرنسز میں صرف بیانات دے کر اپنا قد بڑھا رہے ہیں۔ ان کے نزدیک اگر خان باہر آ گیا تو ان کی قائم کردہ 'سیاسی دکانداری' اور ذاتی بادشاہت راتوں رات بند ہو جائے گی، اسی لیے وہ عملی جدوجہد کرنے کے بجائے صرف زبانی جمع خرچ پر اکتفا کر رہے ہیں۔

تمام تر سختیاں، انتخابی نشان 'بلا' چھن جانا، میڈیا پر نام اور تصویر کی پابندی اور رہنماؤں کا روپوش ہونا بھی 2024ء کے الیکشن میں عوامی جذبے کو نہ توڑ سکا۔ الیکشن کے دن عوام نے گمنام آزاد امیدواروں کے روپ میں خان کے نامزد کردہ افراد کو ووٹ دے کر ثابت کر دیا کہ عمران خان کی مقبولیت کسی انتخابی نشان کی محتاج نہیں رہی۔

عوام کے دلوں میں یہ احساس گہرا ہو چکا ہے کہ ملک کو موجودہ خوفناک معاشی و سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے عمران خان کا جیل سے باہر آنا اور قیادت کی کمان سنبھالنا ہی واحد حل ہے۔عمران خان کی کہانی صرف ایک سیاست دان کے عروج و زوال کی داستان نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسے جنون کا قصہ ہے جو اب پاکستان کے سیاسی کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔

عمران خان جیل کی تاریک کوٹھڑی میں ہیں، اپنوں اور غیروں کی سازشیں عروج پر ہیں، مگر ان کی مقبولیت کا گراف نیچے آنے کے بجائے مزید بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ مخالفین جس چیز کو سیاسی خاتمہ اور موجودہ لیڈرشپ اپنی دکانداری سمجھ رہی تھی، وہ عوام کے لیے محبت کا ایک ’مہنگا نشہ‘ بن چکی ہے۔

ایک ایسا نشہ جس کی قیمت عمران خان قید کی صورت میں کاٹ رہے ہیں اور ان کے حامی سڑکوں پر تشدد اور مشکلات سہہ کر چکا رہے ہیں مگر تاریخ ثابت کرتی ہے کہ جو نظریہ عوام کے دلوں میں اتر جائے، اسے نہ تو قید خانے کی سلاخیں قید کر سکتی ہیں اور نہ ہی اپنوں کی منافقت ختم کر سکتی ہے۔

اگر دریا کو کوزے میں بھرنا مقصود ہوتو یہی کہنا چاہوں گا کہ عمران خان پر دباؤ بھی آیا اور سخت ترین حالات کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن انہوں نے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ اقتدار کے ایوانوں سے نکل کر آج وہ جیل کی تاریک کوٹھڑی میں قید کاٹ رہے ہیں، لیکن ان کا بیانیہ اور سحر آج بھی پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ وہ کون ہے جس کے ایک اشارے پرلاکھوں لوگ ہر سختی سہنے کو تیار ہیں؟ جواب سب جانتے ہیں۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر