ہمارے ہاں پارلیمان کی روایت یہ ہے کہ سوال پوچھنے والا ہمیشہ اپوزیشن کہلاتا ہے اور جواب دینے والا حکومت۔ مگر آج کل ایک تیسری روایت بھی چل نکلی ہے، سوال سنو، جواب چھوڑو، اور سوال پوچھنے والے کی سات پشتوں کا حساب کھول دو۔ اس بار تین کرداروں نے یہی تماشا پیش کیا۔ مولانا فضل الرحمان، خواجہ محمد آصف اور محسن نقوی۔

بات شروع ہوئی تہران سے۔ وہاں خطے کی اہم شخصیات جمع تھیں، اور رپورٹوں کے مطابق پاکستان کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ وزیر داخلہ بھی موجود تھے۔ مولانا نے ایوان میں سوال اٹھایا کہ تہران میں دفاعی معاہدہ ہو رہا ہے تو وزیر دفاع اور وزیر خارجہ یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟ اور وزیر داخلہ وہاں کیا کر رہے ہیں۔

یہ سوال بالکل جائز تھا۔ مگر مولانا نے اسے سوال رہنے نہیں دیا۔ ’کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔‘ جیسا جملہ سوال نہیں، فتویٰ ہے۔ جب آپ دلیل کی جگہ شرم و حیا کا حوالہ دینے لگیں تو سننے والے کو بھی لگتا ہے کہ معاملہ معلومات کا نہیں، حساب برابر کرنے کا ہے۔

خواجہ آصف اور محسن نقوی نے جواب دیا کہ تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ زیر بحث نہیں تھا۔ نقوی صاحب نے کہا کہ وہ وزیراعظم کی ہدایت پر حالات کا حل نکالنے گئے تھے۔ یہ بات بے وزن بھی نہیں۔ رپورٹوں کے مطابق نقوی ایران کے ساتھ مذاکرات میں براہ راست شامل رہے ہیں کیونکہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کر رہا ہے۔

مگر اس وضاحت میں ایک گانٹھ باقی رہ جاتی ہے۔ اجلاس میں آرمی چیف، سعودی وزیر دفاع اور ترک انٹیلی جنس سربراہ موجود ہوں، اور پھر کہا جائے کہ اس کا دفاع سے کوئی تعلق نہیں تھا، تو سادہ آدمی کے ذہن میں سوال اٹھنا لازمی ہے۔ سفارتی کوششیں اور سلامتی کا معاملہ دو الگ الگ کمرے نہیں ہوتے۔ جواب میں اتنا کافی تھا کہ یہ بتا دیا جاتا کہ اجلاس میں کیا بات ہوئی اور پاکستان کا کردار کیا تھا۔ اس کی جگہ مولانا کا سیاسی ماضی کھولنا آسان سمجھا گیا۔

خواجہ آصف نے پوچھا کہ دس برس کشمیر کمیٹی کی سربراہی کے دوران مولانا نے کشمیر کے لیے کیا کیا؟ سوال اپنی جگہ اہم ہے، بلکہ کمیٹی کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ ہونا چاہیے۔ لیکن یہ سوال تہران کے سوال کا جواب نہیں تھا۔ اسے سیاسی زبان میں ’تم بھی تو‘ کہتے ہیں، یعنی میں نے جواب دینے کی بجائے تمہارا پرانا ریکارڈ نکال لیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی تقریر میں خواجہ صاحب نے اپنی جماعت کی ماضی کی سیاسی مصلحتوں کا بھی اعتراف کیا۔ شاباش، مگر یہ اعتراف اکثر اسی وقت یاد آتا ہے جب سامنے والے کو آئینہ دکھانا مقصود ہو۔ خود احتسابی ہمارے ہاں زیادہ تر دوسرے کے احتساب کے ساتھ آتی ہے۔

اگلے دن سینیٹ میں محسن نقوی نے مولانا کو آڑے ہاتھوں لیا۔ فرمایا کہ پہلے ان کا احترام کرتے تھے، اب نہیں رہا۔ پھر کہا کہ بعض لوگوں کے لیے ریاست اس وقت تک ماں ہے جب تک کچھ ملتا رہے۔ اور جب جے یو آئی کے ارکان نے شور مچایا تو وزیر داخلہ کا جواب تھا کہ اب ریاست سے نہ نوکری ملے گی، نہ پیسے، نہ ٹکٹیں۔

یہاں رک کر سوچنا چاہیے۔ وزیر داخلہ ایک منتخب ایوان میں کھڑے ہو کر کہہ رہے ہیں کہ ریاست جسے چاہے نوکری، پیسے اور ٹکٹ دیتی ہے اور جسے چاہے روک لیتی ہے۔ مولانا پر الزام تھا کہ وہ حصہ نہ ملنے پر ناراض ہیں، لیکن یہ جملہ خود بتا رہا ہے کہ حصہ بانٹنے کا اختیار کس کے پاس سمجھا جاتا ہے۔ ریاست ماں ہو تو بچوں میں فرق نہیں کرتی۔ جو ماں خوش رہنے والوں کو انعام اور ناراض ہونے والوں کو سزا دے، اسے ماں کم اور سرپرست زیادہ کہا جاتا ہے۔

انصاف کا تقاضا ہے کہ مولانا کے حصے کی بات بھی ہو۔ انہوں نے معدنیات، دہشت گردی اور عالمی طاقتوں کے مفادات کو جوڑا، اور گورنر راج کی دستاویز پر آئینی اعتراض اٹھایا۔ یہ دونوں معاملات سنجیدہ ہیں۔ مگر معدنی وسائل اور دہشت گردی کا تعلق ایک دعویٰ ہے، ثبوت نہیں۔ اس کے لیے شواہد پیش کرنا پڑتے ہیں۔ آئینی اعتراض کا فیصلہ بھی تقریر سے نہیں، آئین کی متعلقہ شق اور دستاویز کے متن سے ہوگا۔ سیاسی اپوزیشن کا حق ہے کہ شک کرے، مگر شک اور حقیقت کے درمیان فاصلہ شواہد سے ہی طے ہوتا ہے۔

تینوں تقریروں کا خلاصہ یوں ہے۔ مولانا نے ایک اچھا سوال پوچھا اور اسے طعنے میں لپیٹ دیا۔ خواجہ آصف نے جواب کی جگہ ماضی کا حساب کھولا۔ محسن نقوی نے وضاحت دی، مگر ساتھ ہی ایسی دھمکی بھی دے دی جو ایک وزیر داخلہ کے شایان شان نہیں۔

اور عوام؟ وہ اس وقت بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں پہلے تھے۔ انہیں اب تک نہیں بتایا گیا کہ تہران میں کیا طے ہوا، پاکستان کا کردار کیا ہے، اور اس کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔ ایوان میں آوازیں بہت اونچی تھیں، مگر معلومات نہ ہونے کے برابر۔

میرے خیال میں عوام جواب کو رہنے ہی دیں، پارلیمان پر نہیں موسم پر دھیان دیں، بے موسمی ٹھنڈ سے بچیں، ایسے موسم میں وبائی امراض ہوجاتی ہیں، بیمار پڑگئے تو دوا مہنگی ملے گی، علاج مشکل ہے۔ ڈاکٹرز کی فیسیں بھی زیادہ ہیں۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر