وزارتِ خزانہ کی دستاویز کے مطابق یہ قرضہ بجٹ سپورٹ کے طور پر حاصل کیا جائے گا اور اس کے تحت ایف بی آر، ادارہ شماریات، وزارتِ تجارت اور پاور ڈویژن میں اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی۔
دستاویز کے مطابق عالمی بینک ٹیکس اور مالیاتی شعبے میں اصلاحات کے لیے 60 کروڑ ڈالر فراہم کرے گا، جب کہ ایشیائی ترقیاتی بینک سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے 40 کروڑ ڈالر دے گا۔ دونوں قرضوں کے حصول کے لیے کنسیپٹ کلیئرنس پیپر منصوبہ بندی کمیشن کی سی ڈی ڈبلیو پی میں پیش کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا تجارتی خسارہ 12 ارب ڈالرز سے تجاوز کر گیا
مزید بتایا گیا ہے کہ ٹیکس وصولیوں میں انکم ٹیکس کا حصہ 55 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جب کہ منصوبے کا مقصد مالیاتی نظم و نسق اور شفافیت کو مضبوط بنانا ہے۔
اے ڈی بی کے قرض پروگرام کے تحت 40 سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کا جامع پلان تیار کیا گیا ہے، تاکہ سرکاری محکموں میں کارکردگی، احتساب اور اصلاحات کو مؤثر انداز میں یقینی بنایا جا سکے۔







