عالمی بینک کے مطابق، اس پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 1.35 ارب ڈالر تک کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی جس میں 600 ملین ڈالر وفاق اور 100 ملین ڈالر سندھ کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ فنڈز براہ راست اصلاحاتی اہداف کے حصول سے مشروط ہوں گے۔
بینک کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ٹیکس نظام میں بہتری، شفاف مالی نظم و نسق، اور ڈیجیٹل ڈیٹا کے مؤثر استعمال پر مرکوز ہوگا تاکہ عوامی خدمات کی ترسیل میں خاطر خواہ بہتری لائی جا سکے۔
مزید برآں پروگرام آئی ایم ایف کی ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے اور سندھ میں صحت و تعلیم کے شعبوں میں وسائل میں اضافہ متوقع ہے۔ اصلاحات کے ذریعے شفافیت میں اضافہ اور عوامی اعتماد کی مضبوطی بھی منصوبے کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔
واضع رہے کہ عالمی بینک نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف مالیاتی استحکام کو فروغ دیں گے بلکہ پاکستان میں عوامی خدمات کی فراہمی کے طریقہ کار کو بھی نئے معیار تک لے جائیں گے۔







