خبر رساں اداروں کے مطابق اس سے قبل تیل کی قیمتیں 116 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح سے نیچے آ رہی تھیں، جو روس کا یوکرین پر حملہ 2022 کے بعد پیدا ہونے والے عالمی توانائی بحران کے نتیجے میں بڑھی تھیں۔

دوسری جانب اس وقت یہ واضح نہیں کہ اس بار قیمتیں کس حد تک بڑھ سکتی ہیں۔ سعد الکعبی نے جمعے کے روز ایک پیش گوئی کے ذریعے تیل کی عالمی منڈی میں تشویش پیدا کر دی۔ 

ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی اور تیل کی ترسیل متاثر رہی تو قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ سکتی ہے، جو ان کے بقول دنیا کی معیشتوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ دنیا کی تقریباً ایک تہائی تیل کی پیداوار خلیجی ریاستوں سے حاصل ہوتی ہے، جب کہ عالمی گیس پیداوار کا تقریباً 17 فیصد بھی اسی خطے سے آتا ہے۔ 

موجودہ صورتحال میں تقریباً 300 تیل بردار جہاز خطے میں رکے ہوئے ہیں کیونکہ ایران نے دھمکی دی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی کسی بھی کشتی کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اب اس صورتحال کا زیادہ تر دارومدار امریکا پر ہے کہ وہ خطے میں اعتماد بحال کرنے کے لیے کیا اقدامات کرتا ہے، چاہے وہ امریکی بحریہ کی جانب سے جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرنا ہو یا انشورنس پالیسیوں کے ذریعے خطرات کو کم کرنا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں اضافہ صرف مختصر مدت کے لیے ہو تو اسے کسی حد تک برداشت کیا جا سکتا ہے، تاہم اگر یہ صورتحال ہفتوں یا مہینوں تک برقرار رہی تو مہنگائی میں دوبارہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں خوراک، گھریلو اشیا، ایندھن اور توانائی سمیت رہائشی قرضوں یعنی مارگیج کی شرح میں بھی اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔