پیر کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی فی بیرل قیمت تقریباً 120 ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی، تاہم بعد ازاں مارکیٹ میں دباؤ کم ہونے کے باعث قیمتوں میں کمی آئی اور تیل تقریباً 90 ڈالر فی بیرل تک گر گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ خدشہ تھا کہ جاری تنازع کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز کو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالی گئی تو ایران کو ’20 گنا شدت‘ کے ساتھ نشانہ بنایا جائے گا۔






