موڈیز کے مطابق ریٹنگ میں بہتری کی وجوہات میں گورننس میں بہتری، زرمبادلہ کے ذخائر کا مضبوط ہونا اور مقامی قرض لینے کی لاگت میں کمی وجوہات میں شامل ہے۔
موڈیز نے پاکستان میں مسلسل میکرواکنامک استحکام کو بھی ریٹنگ میں بہتری کی وجہ قرار دیا ہے۔
موڈیز کے مطابق ان شعبوں میں بہتری سے پاکستان کی بیرونی پوزیشن مستحکم اور مالیاتی اشاریے بھی بہتر ہوں گے۔
ایکسٹرنل ولنریبلٹی انڈیکیٹر (قلیل و طویل مدتی قرضوں کا زرمبادلہ ذخائر سے تناسب) 2025 میں 230 فیصد سے کم ہو کر 2026 میں تقریباً 145 فیصد پر آ گیا۔
حکومتی محصولات میں سود کی ادائیگیوں کا حصہ مالی سال 2025 میں 49 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2026 میں تقریباً 35 فیصد رہ گیا ہے۔ جس کی بڑی وجہ مہنگائی میں کمی اور شرح سود میں نرمی ہے۔
پاکستان نے بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹس تک رسائی بھی دوبارہ حاصل کی، اپریل 2026 میں 750 ملین ڈالر کا یوروبانڈ اور مئی 2026 میں تقریباً 250 ملین ڈالر کا پہلا "پانڈا بانڈ" جاری کیا۔
موڈیز کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام پر مسلسل عملدرآمد نے پالیسی ساکھ کو مضبوط کیا ہے اور سرکاری قرض دہندگان سے فنانسنگ کو یقینی بنایا ہے۔ ایجنسی کا اندازہ ہے کہ زرمبادلہ ذخائر مالی سال 2027 کے آخر تک 19-20 ارب ڈالر اور مالی سال 2028 میں 20-21 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ محض ایک ماہ قبل ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ 'B-' سے 'B' کرنے کے بعد سامنے آیا ہے، جبکہ موڈیز نے گزشتہ 12 ماہ میں پاکستان کی ریٹنگ میں دو درجے بہتری کی ہے (اگست 2025 میں Caa2 سے Caa1، اور اب Caa1 سے B3)۔
یہ بہتری اس بات کی عکاس ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی سمت پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔







