اس سال بھی اسی درآمد شدہ چینی کے بچے ہوئے ذخیرے کو دوبارہ عالمی منڈی میں فروخت کرنے کی تیاری ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس پورے چکر میں فائدہ کس کو ہوتا ہے اور آخر پاکستان میں چینی کی برآمد اور درآمد کا یہ گھن چکر چلتا کیسے ہے؟
تازہ معاملہ 19 اگست 2026 کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس سے شروع ہوا، جہاں ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے پاس موجود ایک لاکھ 8 ہزار میٹرک ٹن چینی کے لیے بین الاقوامی ٹینڈر طلب کرنے کی اصولی منظوری دی گئی۔
وزارت خزانہ کے مطابق یہ چینی گزشتہ سال درآمد کی گئی 3 لاکھ میٹرک ٹن چینی کے باقی ماندہ اسٹاک کا حصہ ہے۔ ٹینڈر کا عمل پی پی آر اے رولز 2004 کے تحت ہونا ہے۔
لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ اب 108 ہزار ٹن چینی کہاں جائے گی۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کو یہ چینی درآمد کرنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی تھی؟
کتنی چینی باہر گئی؟
مالی سال 2024-25 میں چینی کی برآمدات نے خاصی رفتار پکڑی۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2024 سے جون 2025 کے دوران 67 شوگر ملز نے 7 لاکھ 46 ہزار 469 ٹن سے زائد چینی برآمد کی، جس کی مالیت 400.02 ملین ڈالر یعنی تقریباً 111.97 ارب روپے بنتی تھی۔
یہ صرف برآمد کا حجم نہیں تھا۔ اسی عرصے میں چینی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا اور آڈیٹر جنرل کی جانب سے پی اے سی کو بتایا گیا کہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے نتیجے میں شوگر ملز کو تقریباً 300 ارب روپے کے ونڈ فال منافع کا اندازہ لگایا گیا۔ پی اے سی میں اس معاملے پر ملز، برآمدی پالیسی اور صارفین کے مفادات کے درمیان تضاد پر سوالات اٹھائے گئے۔

خیال رہے کہ 300 ارب روپے کو ’ثابت شدہ کرپشن‘ کہنا درست نہیں ہوگا۔ آڈیٹر جنرل کے مطابق یہ شوگر ملز کو حاصل ہونے والے ممکنہ/اضافی منافع کا تخمینہ تھا، جب کہ کرپشن یا غیر قانونی منافع کے کسی مخصوص حصے کو ثابت کرنے کے لیے الگ قانونی تحقیقات اور شواہد درکار ہوتے ہیں۔
پھر مارکیٹ میں کیا ہوا؟
برآمد کے بعد جب ملکی مارکیٹ میں سپلائی اور قیمتوں کا دباؤ بڑھا تو حکومت کو دوبارہ درآمد کی طرف جانا پڑا۔
آئی ایم ایف کی پاکستان سے متعلق رپورٹ کے مطابق 2024-25 کی شوگر فصل میں پیداوار اور شوگر ریکوری معمول سے کم رہی، جس کے نتیجے میں مالی سال 2026 کی دوسری سہ ماہی میں سپلائی شارٹ فال کا خدشہ پیدا ہوا اور حکومت کو 3 لاکھ میٹرک ٹن چینی ہنگامی طور پر درآمد کرنا پڑی۔
یہاں سے شوگر پالیسی کا وہ تضاد سامنے آتا ہے جس پر ماہرین اور سیاست دان سوال اٹھا رہے ہیں۔ جس شعبے سے پہلے چینی برآمد کی گئی، اسی مارکیٹ میں بعد میں چینی درآمد کرنا پڑی۔
درآمدی کھیل؛
جولائی 2025 میں حکومت نے چینی کی درآمد کے لیے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا، جس کا مقصد مارکیٹ میں سپلائی بڑھانا، قیمتوں کو قابو کرنا اور ممکنہ قلت سے بچنا بتایا گیا۔ وزارت قومی غذائی تحفظ نے اعلان کیا کہ درآمدی چینی پر ڈیوٹی اور ٹیکس ختم کیے جائیں گے تاکہ صارفین کو نسبتاً سستی چینی فراہم کی جا سکے۔
ایف بی آر نے اس مقصد کے لیے 2025 میں ایسا ایس آر او بھی جاری کیا جس کے تحت 5 لاکھ میٹرک ٹن تک سفید چینی کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی سے مخصوص شرائط کے ساتھ استثنا دیا گیا۔

لیکن معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ تجارتی ذرائع کے مطابق درآمد کے لیے حکومت نے ابتدا میں 5 لاکھ ٹن تک چینی لانے کا منصوبہ بنایا، جب کہ عملی طور پر تقریباً 3 لاکھ ٹن درآمد ہوئی۔
ایک سرکاری/صنعتی بریفنگ کے مطابق 2024-25 سیزن میں حکومت نے 5 لاکھ ٹن درآمد کی منظوری دی تھی اور سرکاری سطح پر 306,737 ٹن درآمد ہوئی۔
ٹیکس میں کتنی چھوٹ ملی؟
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ حکومت ایک طرف عام طور پر درآمدات پر ٹیکس وصول کرتی ہے، دوسری طرف چینی کے معاملے میں ٹیکس بوجھ کم کرکے درآمد کی اجازت دی گئی۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق 2025 میں 3 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کے لیے حکومت نے کسٹمز ڈیوٹی ختم کی، جب کہ سیلز ٹیکس 18 فیصد سے کم کرکے 0.25 فیصد اور ودہولڈنگ ٹیکس بھی 0.25 فیصد تک لایا گیا۔
حکومت نے درآمدی چینی پر مجموعی درآمدی ٹیکسوں کا تقریباً 53 فیصد بوجھ ختم کیا، جس کا مقصد درآمدی لاگت میں تقریباً 82 روپے فی کلو تک کمی لانا بتایا گیا۔ تاہم اسی فیصلے پر آئی ایم ایف کے پروگرام کے حوالے سے بھی اعتراضات سامنے آئے، کیونکہ ٹیکس استثنا پروگرام کے تحت کیے گئے وعدوں سے متصادم قرار دیا گیا۔
یعنی حکومت نے قیمتیں کم رکھنے کے لیے ٹیکس چھوڑا، عوام کو ریلیف دینے کے نام پر درآمد کی، لیکن اب اسی درآمدی اسٹاک کا ایک حصہ مقامی مارکیٹ میں فروخت ہونے کے بجائے بیرون ملک فروخت کرنے کی تیاری ہو رہی ہے۔
کیا حکومت درآمد شدہ چینی خسارے میں باہر بھیج رہی ہے؟
ابھی یہ کہنا درست نہیں کہ پوری 108 ہزار ٹن چینی لازماً خسارے میں فروخت ہو چکی ہے۔ حکومت نے بین الاقوامی ٹینڈر طلب کرنے کی منظوری دی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق حتمی برآمدی فیصلہ ٹینڈر میں ملنے والی قیمت دیکھنے کے بعد وفاقی کابینہ کی سطح پر کیا جا سکتا ہے۔
البتہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر درآمد کے وقت حکومت نے ٹیکس چھوٹ، سرکاری انتظام اور دیگر مراعات کے ذریعے چینی ملک میں منگوائی اور اب عالمی مارکیٹ میں اسے ایسی قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے جو درآمدی لاگت اور ٹیکس ریلیف کے حساب سے کم فائدہ دے، تو اصل مالی بوجھ بالآخر سرکاری خزانے یا عوام پر منتقل ہونے کا سوال ضرور پیدا ہوتا ہے۔
یہی وہ سوال ہے جس کا شفاف جواب حکومت کو دینا چاہیے کہ جس چینی کو عوام کے لیے قیمتیں کم کرنے کے نام پر درآمد کیا گیا تھا، وہ مقامی مارکیٹ میں پوری طرح کیوں نہیں کھپ سکی؟

مقامی چینی مہنگی کیوں ہوئی؟
شوگر ملز کا کہنا ہے کہ پیداوار، گنے کی قیمت، توانائی، مالی اخراجات اور دیگر لاگت بڑھنے کی وجہ سے چینی کی قیمت متاثر ہوتی ہے۔ دوسری جانب حکومت اور صارفین کے حلقوں کا مؤقف ہے کہ برآمد کی اجازت، ذخیرہ اندوزی، مارکیٹ میں طاقت کا ارتکاز اور ملز کے ہاتھ میں سپلائی کا بڑا حصہ قیمتوں کو اوپر لے جا سکتا ہے۔
2025 میں پی اے سی کے سامنے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 67 ملز نے 746,469 ٹن سے زیادہ چینی برآمد کی۔ اسی دوران شوگر ملز کو قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے تقریباً 300 ارب روپے کے ونڈ فال منافع کا تخمینہ سامنے آیا۔
یہی وجہ ہے کہ برآمد کی اجازت کا فیصلہ محض تجارتی فیصلہ نہیں رہتا۔ اگر ملک میں چینی کا حقیقی سرپلس موجود نہ ہو اور پھر بھی برآمد کر دی جائے تو اس کا اثر براہِ راست مقامی قیمت پر پڑ سکتا ہے۔
یہ کھیل پہلے بھی ہو چکا ہے
پاکستان میں شوگر سیکٹر پر سوالات نئے نہیں۔ 2020 کی شوگر انکوائری نے پیداوار، قیمتوں، برآمدات، سبسڈی، ذخیرہ اندوزی اور حکومتی پالیسیوں کے پورے نظام کا جائزہ لیا تھا۔
انکوائری نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ حکومت کئی مواقع پر شوگر ملز کی جانب سے فراہم کردہ پیداوار اور دستیابی کے اعداد و شمار پر کس حد تک انحصار کرتی رہی، جب کہ آزادانہ طور پر اسٹاک اور پیداواری لاگت کی تصدیق کا نظام کمزور تھا۔
یہی کمزوری آج بھی بنیادی سوال بن کر سامنے آتی ہے کہ اگر ’سرپلس‘ کا فیصلہ ہی اس شعبے کے فراہم کردہ اعداد و شمار پر ہو جسے برآمد سے براہِ راست مالی فائدہ پہنچنا ہے تو پھر پالیسی ساز کس بنیاد پر طے کریں گے کہ ملک میں واقعی کتنی چینی اضافی ہے؟

سبسڈی بھی، برآمد بھی
شوگر سیکٹر کو ماضی میں برآمدی سبسڈی بھی ملتی رہی ہے۔ 2020 کی شوگر انکوائری کے مطابق جنوری 2015 سے رپورٹ کے وقت تک شوگر سیکٹر کو 29 ارب روپے سے زائد برآمدی سبسڈی دی گئی تھی۔
یعنی ایک طرف ملز کو بیرون ملک چینی فروخت کرنے کی اجازت اور بعض اوقات مالی معاونت ملی، دوسری طرف جب ملکی مارکیٹ میں سپلائی کا مسئلہ پیدا ہوا تو حکومت کو درآمد کے لیے ٹیکس میں چھوٹ دینا پڑی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں پالیسی کا بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک ہی شعبے کو پہلے برآمد کے لیے سہولت، پھر قلت دور کرنے کے لیے درآمد پر ٹیکس رعایت اور اب بچ جانے والی درآمدی چینی کو دوبارہ برآمد کرنے کی اجازت دی جائے تو اس پورے چکر کا اصل معاشی فائدہ کس کو ملتا ہے؟
آئی ایم ایف کیا چاہتا ہے؟
آئی ایم ایف کی پاکستان سے متعلق رپورٹ میں شوگر سیکٹر کے لیے زیادہ آزاد اور مارکیٹ پر مبنی نظام کی طرف جانے کی بات کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکومت کو شوگر مارکیٹ کی مکمل لبرلائزیشن کی طرف بڑھنا ہے، جس میں گنے کی پیداوار اور ملز سے متعلق بعض پابندیاں ختم کرنا، درآمدی ڈیوٹی کم کرنا اور برآمدات کو لبرلائز کرنا شامل ہے۔
اس کا مقصد اصولی طور پر یہ ہے کہ حکومت ہر مرتبہ ’اب برآمد کریں یا درآمد؟‘ کا فیصلہ کرنے کے بجائے مارکیٹ کو زیادہ آزاد چھوڑے اور قیمت کا تعین طلب و رسد سے ہو۔
لیکن پاکستان میں مسئلہ صرف قانون یا پالیسی کا نہیں؛ مسئلہ مارکیٹ کی طاقت اور شفافیت کا بھی ہے۔ اگر چند بڑے گروپس مارکیٹ میں غیر معمولی اثر رکھتے ہوں تو صرف ڈی ریگولیشن سے صارف لازماً محفوظ نہیں ہو جاتا۔
حل کیا ہے؟
حل یہ نہیں کہ ہر بار چینی برآمد پر مکمل پابندی لگا دی جائے یا ہر قلت پر حکومت ٹیکس معاف کرکے درآمد شروع کر دے۔ سب سے پہلے قومی سطح پر حقیقی وقت کا شوگر اسٹاک ڈیٹا ہونا چاہیے۔ ہر شوگر مل کے پاس موجود چینی، پیداوار، فروخت، برآمد اور ذخیرے کا ڈیٹا ڈیجیٹل اور قابلِ آڈٹ ہونا چاہیے۔
برآمد کی اجازت صرف ملز کے تخمینے پر نہیں بلکہ آزادانہ اسٹاک ویریفکیشن کے بعد ہونی چاہیے۔ اگر حکومت عوام کے لیے ٹیکس فری چینی درآمد کرتی ہے تو یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ وہ چینی کس قیمت پر خریدی گئی، کس قیمت پر مارکیٹ میں فروخت ہوئی، کس نے خریدی اور کتنا مالی فائدہ یا نقصان ہوا۔

برآمد اور درآمد کے فیصلوں کے ساتھ قیمت کا ٹریکنگ میکانزم ہونا چاہیے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ عالمی قیمت بڑھنے کا فائدہ ملز کو کتنا اور صارف کو کتنا پہنچا۔ شوگر ملز کی ملکیت، سیاسی وابستگیوں اور مارکیٹ شیئر کو عوام کے سامنے لانا ہوگا۔
چینی ایک نیا سوال؟
پاکستان اس وقت ایک عجیب معاشی صورتحال کے سامنے کھڑا ہے۔ گزشتہ سال ممکنہ قلت سے بچنے کے لیے حکومت نے چینی درآمد کی۔ درآمدی چینی پر ٹیکس اور ڈیوٹی میں بڑی رعایت دی گئی۔ تقریباً 3 لاکھ ٹن چینی سرکاری سطح پر درآمد ہوئی۔
اب اس میں سے 108 ہزار ٹن چینی ٹی سی پی کے پاس باقی ہے اور حکومت اسے بین الاقوامی ٹینڈر کے ذریعے بیرون ملک فروخت کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
دوسری طرف شوگر ملز ایسوسی ایشن ایک مرتبہ پھر مزید چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگ رہی ہے، جبکہ موجودہ سرکاری فیصلے کے مطابق پہلے سے درآمد شدہ سرکاری اسٹاک کو ہی عالمی منڈی میں فروخت کرنے کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔
یوں پاکستانی شوگر سیکٹر کی کہانی ایک دائرے کی طرح گھومتی دکھائی دیتی ہے:
سرپلس کا دعویٰ → برآمد → مقامی قیمتوں پر دباؤ → قلت کا خدشہ → درآمد → ٹیکس میں چھوٹ → سرکاری اسٹاک → اور اب دوبارہ برآمد۔
سوال صرف یہ نہیں کہ چینی کتنی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس پورے گھن چکر میں پالیسی کون بناتا ہے، فائدہ کس کو ہوتا ہے، خطرہ کون اٹھاتا ہے اور آخر میں بل کون ادا کرتا ہے؟







