رپورٹ کے مطابق پیر کو کاروبار کے آغاز پر ایرانی ریال کی قدر 20 لاکھ 20 ہزار ریال فی ڈالر تک گر گئی، جب کہ ایرانی مرکزی بینک کی سرکاری شرح تقریباً 15 لاکھ ریال فی ڈالر ہے۔ تاہم عام شہریوں کے لیے مارکیٹ ریٹ زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
ایران کی کرنسی کو جنگ اور پہلے سے عائد عالمی پابندیوں کے باعث مسلسل دباؤ کا سامنا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد ریال کی قدر میں مزید نمایاں کمی ہوئی ہے، جب کہ ملک میں مہنگائی اور معاشی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد ایران میں چاول کی قیمت میں تقریباً 60 فیصد جب کہ گائے کے گوشت کی قیمت میں 150 فیصد سے زائد اضافہ ہوچکا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ایرانی معیشت میں 5 فیصد سے زائد سکڑاؤ کی پیش گوئی کی ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ آج ایران کے خلاف نئی اقتصادی پابندیوں کا اعلان کرنے والے ہیں، جن میں ان ممالک کو بھی نشانہ بنانے کی توقع ہے جو ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بیسنٹ نے نئی کارروائی کو ’تاریخ کا سب سے بڑا مالی حملہ‘ قرار دیا ہے، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی معیشت ’مکمل طور پر تباہی کے قریب‘ پہنچ چکی ہے۔
ایران کو معاشی دباؤ کے باوجود آبنائے ہرمز کی صورت میں ایک اہم اسٹریٹجک برتری حاصل ہے۔ ایرانی حملوں اور بحری جہازوں کو درپیش خطرات کے باعث اس اہم آبی گزرگاہ میں تجارتی سرگرمیاں تقریباً رک گئی ہیں۔
ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے جہازوں سے فیس وصول کرنے کی شرط بھی عائد کر رکھی ہے۔ ادھر عمان کے وزیر خارجہ منگل کو تہران کا دورہ کریں گے جہاں آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر بات چیت متوقع ہے۔
مزید پڑھیں: آج سے ایران کے خلاف فیصلہ کن اقتصادی کارروائی کا آغاز کررہے ہیں: امریکی وزیرخزانہ
دوسری جانب پاکستان نے بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں۔ پاکستان کی جانب سے ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی پیر کو ایران پہنچا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی دباؤ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مزید کشیدگی کے ’نتائج ضرور سامنے آئیں گے‘ اور ایران کے ہاتھ بندھے ہوئے نہیں ہیں۔
ادھر تہران میں شہری اپنی بچت کو مزید قدر کھونے سے بچانے کے لیے ڈالر خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے ایرانی عوام میں معاشی بحران اور جنگ کے مستقبل کے حوالے سے بڑھتی بے یقینی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔







