مجوزہ پیکیج کے تحت ایسے اقدامات شامل کیے جا رہے ہیں جن سے نہ صرف مقامی مینوفیکچررز کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے بلکہ صارفین کو بھی نسبتاً کم قیمت پر گاڑیاں دستیاب ہو سکیں گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ملک میں صنعتی ترقی، سرمایہ کاری اور جدید ٹرانسپورٹ نظام کے فروغ میں معاون ثابت ہوں گے۔

پالیسی کا بنیادی ہدف آٹو انڈسٹری میں پیداواری لاگت کم کرنا اور ٹیرف کے نظام کو آسان بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے گاڑیوں اور آٹو پارٹس پر درآمدی ڈیوٹی میں کمی کی تجاویز زیر غور ہیں، تاکہ مقامی سطح پر گاڑیوں کی تیاری کو فروغ دیا جا سکے اور صارفین کو ریلیف فراہم ہو۔

حکومت آٹو پارٹس پر تقریباً 5 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کرنے پر غور کر رہی ہے، جبکہ اسمبل شدہ گاڑیوں پر لگ بھگ 10 فیصد ڈیوٹی کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح ہائبرڈ گاڑیوں کے پرزہ جات پر بھی 5 فیصد ڈیوٹی مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ حکام کے مطابق ان اقدامات سے ٹیرف کا نظام زیادہ سادہ اور یکساں بنایا جا سکے گا۔

مجوزہ پالیسی میں مکمل طور پر ناک ڈاؤن کٹس پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ مختلف زمروں کے لحاظ سے سی کے ڈی کٹس پر 5 سے 10 فیصد تک کسٹم ڈیوٹی مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے مقامی اسمبلی انڈسٹری کو تقویت ملے گی، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ملکی سپلائی چین مزید مضبوط ہو سکے گی۔

ریلیف پیکیج کے تحت اضافی کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے اور ریگولیٹری ڈیوٹی کو مرحلہ وار کم کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس سے درآمد کنندگان اور مینوفیکچررز پر مالی دباؤ کم ہوگا جبکہ ٹیکس نظام مزید شفاف اور قابل پیش گوئی بن سکے گا۔

پالیسی کی ایک اہم خصوصیت نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں، خصوصاً ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہے۔ مجوزہ فریم ورک کے تحت صرف الیکٹرک کاروں ہی نہیں بلکہ ہائبرڈ گاڑیوں کو بھی مراعات دینے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔

حکومت الیکٹرک گاڑیوں، الیکٹرک بائیکس اور رکشوں کے لیے ڈیوٹی میں خصوصی چھوٹ دینے پر بھی غور کر رہی ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد صاف توانائی کے استعمال کو بڑھانا اور کاربن اخراج میں کمی لانا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ریلیف پیکیج مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا تو آٹو انڈسٹری میں نمایاں ترقی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ کم ڈیوٹی اور نئی مراعات کے باعث گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی، فروخت میں اضافہ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ پالیسی پاکستان کو پائیدار نقل و حمل کے عالمی رجحانات سے ہم آہنگ کرنے میں مدد دے گی، جبکہ طویل مدت میں معیشت، صنعت اور روزگار کے شعبوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔