بینک کے مطابق یہ فنڈز 2030 تک نئی کنٹری پارٹنرشپ حکمت عملی کے تحت دیے جائیں گے، جس کا مقصد پاکستان کی معیشت کو مضبوط، مستحکم اور پائیدار بنانا ہے۔

اے ڈی بی کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی کے تحت نجی شعبے کو فروغ دینا اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ترجیح ہوگی۔ اس کے علاوہ کاروبار اور سرمایہ کاری کو آسان بنانا، عوامی سہولیات میں بہتری لانا اور خواتین کو مساوی مواقع فراہم کرنا بھی اہم نکات میں شامل ہیں۔ مزید برآں موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

حکام کے مطابق توانائی، ریلوے و ٹرانسپورٹ، زراعت اور خوراک کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی جائے گی، جبکہ پانی کے نظام کی بہتری، ہنرمند افرادی قوت کی تیاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا بھی ترجیحات میں شامل ہے۔

پاکستان کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر ایما فین نے کہا کہ نئی کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی پاکستان کو درپیش ساختی چیلنجز سے نمٹنے اور مضبوط و پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے تیار کی گئی ہے، تاکہ اس کے فوائد پورے ملک خصوصاً غریب اور کمزور طبقات تک پہنچ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ حکمت عملی اہم شعبوں میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری اور اصلاحات کو فروغ دے گی، جس سے اقتصادی ترقی کی رفتار تیز ہوگی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اے ڈی بی پاکستان کے سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے ساتھ مل کر اس وسیع ایجنڈے پر عمل درآمد میں معاونت کرے گا۔

اے ڈی بی نے اپنی رپورٹ میں پاکستانی برآمدات کو ناکافی اور کاروباری ماحول کو چیلنجنگ قرار دیا، جبکہ توانائی کے نظام کو کمزور اور غربت کی شرح کو اب بھی بلند بتایا۔

 تاہم بینک کے مطابق پاکستان کی معیشت میں استحکام آ رہا ہے اور ملک کی تقریباً 66 فیصد نوجوان آبادی ایک بڑی قوت ہے، جو مناسب اصلاحات کی صورت میں تیز رفتار ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

بینک کے مطابق یہ حکمت عملی پاکستان کے نیشنل اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان 2024 تا 2029 اور ادارے کی اسٹریٹیجی 2030 کے مڈ ٹرم جائزے سے ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد مضبوط اقتصادی ترقی، سماجی شمولیت، لچک اور ماحولیاتی پائیداری کا حصول ہے۔

مزید برآں، یہ حکمت عملی عالمی بینک، انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کو بھی فروغ دے گی تاکہ ترقیاتی اقدامات کے اثرات کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔