وزارتِ تجارت نے اس سلسلے میں پاکستان کے ذریعے سامان ٹرانزٹ آرڈر 2026 کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی حکومت نے امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ 1950 میں ترامیم کر دی ہیں اور یہ نیا حکم نامہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ قانون ان ٹرانزٹ اشیاء کی نقل و حمل پر لاگو ہوگا جو کسی تیسرے ملک سے روانہ ہو کر پاکستان کے راستے ایران کے کسی مقام تک پہنچائی جائیں گی۔
Pakistan has taken a significant step to boost regional trade!
— The Balochistan Diaries (TBD) (@BalochDiaries) April 26, 2026
The Ministry of Commerce has notified the “Transit of Goods Order 2026,” allowing goods from third countries to transit through Pakistan en route to Iran.
Key routes designated: Gwadar, Karachi & Taftan. Gwadar… pic.twitter.com/fRqB6vbFj7
پاکستان کی جانب سے سامان کی ترسیل کے لیے مختلف روٹس بھی متعین کر دیے گئے ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق گوادر، پورٹ قاسم، لیاری، اورماڑہ، پسنی اور گبد کو روٹس میں شامل کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ کراچی، پورٹ قاسم، خضدار، دالبندین، تفتان، گوادر اور تربت کے راستے بھی اس نظام کا حصہ ہوں گے، جبکہ ہوشاب، پنجگور، ناگ، بیسیمہ، خضدار، کوئٹہ/لک پاس اور نوکنڈی کے روٹس بھی اس میں شامل ہیں۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ سامان کی نقل و حمل کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت بنائے گئے قواعد و ضوابط اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق ہوگی۔







