نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت فیول سبسڈی سے متعلق قومی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں موٹرسائیکل سواروں، چھوٹے کسانوں، عوامی ٹرانسپورٹ اور مال بردار ٹرانسپورٹ کے لیے دی جانے والی فیول سبسڈی ختم کرنے کی منظوری دی گئی۔
اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق یہ سبسڈی چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں فراہم کی جا رہی تھی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ چکی ہے، جس کا فائدہ پہلے ہی صارفین کو منتقل کیا جا چکا ہے، لہٰذا وزیراعظم کی منظوری سے فیول سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق موٹرسائیکل، رکشا اور 800 سی سی گاڑیوں کے مالکان کو فی لیٹر 50 سے 100 روپے تک سبسڈی دی جا رہی تھی، جب کہ عوامی اور مال بردار ٹرانسپورٹ کو کرائے کم رکھنے کے لیے ماہانہ 70 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک سبسڈی فراہم کی جاتی تھی۔
اسی طرح چھوٹے کاشتکاروں کو بھی ڈیزل پر فی لیٹر 100 روپے کی سبسڈی دی جا رہی تھی، جسے اب ختم کر دیا گیا ہے۔







