تفصیلات کے مطابق ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالروف ابراہیم نے اعلان کیا کہ احتجاجاً کراچی سمیت ملک بھر کو اجناس کی سپلائی معطل رکھی جائے گی اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی۔
ان کے مطابق جوڑیا بازار، لی مارکیٹ، ڈانڈیا بازار، نانک واڑہ، لانڈھی، ملیر، کورنگی اور لیاقت آباد سمیت تمام بڑی اور چھوٹی ہول سیل اجناس مارکیٹیں مکمل طور پر بند رہیں گی، جس سے ملک گیر سطح پر غذائی اجناس کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
عبدالروف ابراہیم نے آٹے کی قیمتوں کے معاملے پر دکانداروں کے خلاف حکومتی کارروائیوں کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انتظامیہ دکانداروں کو بلاجواز گرفتار کر رہی ہے، بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں اور متعدد دکانیں سیل کر دی گئی ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ دکانداروں پر 50 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک کے جرمانے کیے جا رہے ہیں، تاہم کسی کو تحریری چالان یا رسید فراہم نہیں کی جا رہی بلکہ صرف ایک ایزی پیسہ نمبر دے کر رقم منتقل کرنے کا کہا جاتا ہے۔
چیئرمین ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ آٹے کی مہنگائی کے ذمہ دار فلور ملز مالکان ہیں، کیونکہ مہنگا آٹا وہی فراہم کر رہے ہیں اس لیے کارروائی بھی ان کے خلاف ہونی چاہیے، نہ کہ چھوٹے دکانداروں کے خلاف۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ دکانداروں کو ہراساں کرنے کے بجائے مہنگا آٹا سپلائی کرنے والی فلور ملز کے خلاف کارروائی کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک دکانداروں کے خلاف کارروائیاں بند نہیں کی جاتیں اور سیل کی گئی دکانیں بحال نہیں ہوتیں، اجناس کی سپلائی معطل رہے گی۔






