گزشتہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کا حجم 17 ہزار 500 ارب روپے سے زائد تھا، جب کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو 14 ہزار ارب روپے سے زیادہ ٹیکس وصولی کا ہدف دیا گیا تھا۔ ناقدین کے مطابق ٹیکس وصولی کے اس بڑے ہدف کا بوجھ بالآخر عوام پر منتقل ہوا، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوا اور متوسط طبقہ شدید مالی دباؤ کا شکار رہا۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں بالواسطہ ٹیکسوں کا نظام عام شہریوں پر اضافی بوجھ ڈال رہا ہے، کیونکہ روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا اور خدمات پر مختلف نوعیت کے ٹیکس عائد ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی اور دیگر ٹیکسوں کو بھی عوامی اخراجات میں اضافے کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب بجلی کے شعبے میں نجی بجلی گھروں (آئی پی پیز) کو کی جانے والی کپیسٹی پیمنٹس بھی تنقید کی زد میں ہیں۔ ناقدین کے مطابق بجلی کی پیداوار اور استعمال سے قطع نظر اربوں روپے کی ادائیگیاں قومی خزانے اور صارفین پر اضافی بوجھ بن رہی ہیں، جب کہ عوام کو مسلسل بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں کا سامنا ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ اس کی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں ملک ڈیفالٹ کے خطرے سے باہر آیا، آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط پوری کی گئیں اور کئی اہم معاشی اشاریوں میں بہتری آئی۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی استحکام کے باوجود عام آدمی کی قوتِ خرید میں خاطر خواہ بہتری نہیں آ سکی۔

ادھر مختلف شعبوں میں سبسڈیز کے خاتمے یا کمی، اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، زرعی لاگت میں اضافے اور بے روزگاری جیسے مسائل بھی عوامی تشویش میں اضافہ کر رہے ہیں۔ کسان مہنگی کھاد اور زرعی اخراجات سے پریشان ہیں جبکہ نوجوانوں کو روزگار کے محدود مواقع کا سامنا ہے۔

آئندہ بجٹ کے حوالے سے یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ آیا حکومت عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹیکسوں کے بوجھ میں کمی، بجلی کے شعبے میں اصلاحات اور متوسط طبقے کے لیے سہولتوں کا اعلان کرے گی یا نہیں۔

معاشی حلقوں کا کہنا ہے کہ عوام اب محض اعلانات اور وعدوں کے بجائے ایسے عملی اقدامات کے منتظر ہیں جو ان کی روزمرہ زندگی میں حقیقی بہتری لا سکیں۔